’مذاکرات سے شامیوں کی مشکلات میں کمی نہیں آ‏ئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محمد علوش نے مذاکرات کی ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے استعفی دے دیا ہے

شام میں حکومت مخالف گروہوں کے مرکزی مذاکرات کار محمد علوش نے امن مذاکرات کی ’ناکامی‘ کی وجہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اعلیٰ مصالحتی کمیٹی (ایچ این سی) کے محمد علوش نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں یہ تو کسی سیاسی سمجھوتے تک پہنا جا سکا اور نہ ہی محصور علاقوں میں رہنے والے شامیوں کی مشکلات میں کمی آ‏ئي۔

٭ ’غیر ملکی ریاستیں شام میں دھماکوں کی ذمہ دار ہیں‘

٭ اعلیٰ امریکی کمانڈر کا خفیہ دورۂ شام

خیال رہے کہ ایچ این سی نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں شام کی حکومت کے ساتھ جنیوا میں فریقین کو قریب لانے والی بات چیت سے اپریل کے مہینے میں علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

اس بات چیت کے دوبارہ آغاز کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

محمد علوش نے کہا کہ ’بات چیت کے تین دور حکومت کی ضد اور شامی شہریوں پر اس کی مسلسل بمباری اور جارحیت کی وجہ سے ناکام رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محصور علاقوں تک امداد کی رسائی میں کمی پر برہمی پائی جاتی ہے

سعودی نواز ایچ این سی مہینوں تک جنیوا مذاکرات کے متعلق اپنی مایوسی کا اظہار کرتی رہی۔

محصور علاقوں تک امدادی سامان کی رسائی میں کمی، سیاسی قیدیوں کی رہائي میں سست روی اور بشار الاسد کے بغیر شام میں سیاسی منتقلی کی بات نہ ہونے پر ایچ این سی میں ناراضی پیدا ہو گئی تھی۔

امریکہ اور روس کی ثالثی سے شام میں جنگ بندی سرکاری طور پر اب بھی برقرار ہے لیکن اس کی مسلسل خلاف ورزی بھی ہوتی رہتی ہے۔

محمد علوش کے استعفے سے مزید لوگوں کو تحریک ملنے کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایچ این سی کے ایک دوسرے رکن نے بھی اپنے استعفی کا عندیہ دیا ہے۔

صدر بشار الاسد کے خلاف پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں تقریبا ڈھائی لاکھ شامی باشندے مارے جا چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

اسی بارے میں