سابقہ مس ترکی پر صدر کی تضحیک کرنے کا جرم ثابت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ترکی پر آزادی رائے پر پابندی لگانے کا الزام عائد کرتی ہیں

ترکی کی ایک عدالت نے سابقہ مس ترکی کو صدر رجب طیب اردوگان کی بے عزتی کرنے کے جرم میں 14 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

تاہم سابقہ مس ترکی کو دی جانے والی سزا کو عدالت نے فی الحال معطل رکھا ہے۔

ستائیس سالہ سابقہ مس ترکی ماروے بیوک سارچ کو ایک سرکاری اہلکار کی سوشل میڈیا پر ایک بیان میں تضحیک کرنے کا مجرم پایا گیا۔ ماروے بیوک سارچ نے صدر اردوگان کی بے عزتی کرنے کے الزام سے انکار کیا ہے۔

بیوک سارچ کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گی اور اگر ضرورت پڑی تو یورپی عدالت انصاف سے بھی رجوع کیا جائے گا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ترکی پر آزادی رائے پر پابندی لگانے کا الزام عائد کرتی ہیں۔

صدر اردوگان کے سنہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک ایک ایسے قانون کے تحت جس کی ماضی میں استعمال کی مثال کم کم ملتی ہے دو ہزار کے قریب افراد جن میں سکول کے بچے بھی شامل ہیں انھیں صدر کی تضحیک کرنے پر سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

ماروے بیوک سارچ جو سنہ 2006 میں مس ترکی منتخب ہوئیں تھیں انھیں گذشتہ سال انسٹا گرام پر ایک تنزیہ نظم جاری کرنے پر مختصر مدت کے لیے قید بھگتنا پڑی تھی۔

یہ تنزیہ نظم جو ترکی کے قومی ترانے کی پیروڈی تھی، ہزاروں لوگوں نے شیئر کی اور سرکاری وکلاء نے اسے صدر کی بے عزتی کرنے کے مترادف قرار دیا۔

ان کی سزا کو بعد میں معطل کر دیا گیا اور یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ آئندہ پانچ برس میں کسی اور جرم کی مرتکب نہیں ہوں گی۔

سابق مس ترکی کے وکیل نے کہا کہ ماروے بیوک سارچ کو ان الفاظ پر سزا دی گئی جو ان کے نہیں تھے۔

اسی بارے میں