’پاکستان نےکالعدم تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی رپورٹ کے مطابق لشکر طیبہ اور جیش محمد دونوں ہی پاکستان میں سرگرم ہیں، تربیت دے رہی ہیں اور پیسہ اکٹھا کر رہی ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ نے پاکستان پر کالعدم تنظیموں لشکر طیبہ، جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور ایران کو دہشت گردی کی سب سے زیادہ سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا ہے۔

دنیا بھر میں دہشت گردی کے حوالے سے جاری سالانہ رپورٹ میں محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ سنہ 2015 میں دہشت گردی کے واقعات میں 2014 کی نسبت 13 فیصد کمی دیکھی گئی لیکن اس کے خطرے میں کمی نہیں آئی ہے۔

* جماعت الدعوۃ القران اور طارق گیدڑ دہشتگرد فہرست میں

* ایران دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے: او آئی سی کا الزام

رپورٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی پہنچ میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ کے مطابق عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقوں میں کمی آئی ہے لیکن دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سے بڑا خطرہ اب بھی اسی تنظیم سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کالعدم لشکر طیبہ سے منسلک دو تنظیموں ’جماعت الدعوۃ‘ اور ’فلاح انسانیت‘ کی میڈیا کوریج پر تو پابندی لگی لیکن حکومت نے ان کے چندہ جمع کرنے کی کارروائی کی کوئی روک تھام نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا اب بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فرنٹ لائن علاقہ ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی کارروائی سے القاعدہ کمزور ہوئی ہے لیکن رپورٹ کے مطابق ’افغانستان میں کئی حملے پاکستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے کیے گئے ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 میں پاکستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی لیکن سکولوں اور دوسرے ایسے اہداف کو شدت پسندوں نے نشانہ بنانا جاری رکھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیمرا نے کالعدم لشکر طیبہ سے منسلک دو تنظیموں ’جماعت الدعوۃ‘ اور ’فلاح انسانیت‘ کی میڈیا کوریج پر تو پابندی لگائی لیکن حکومت نے ان کے چندہ جمع کرنے کی کارروائی کی روک تھام نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق ’لشکر طیبہ اور جیش محمد دونوں ہی پاکستان میں سرگرم ہیں، تربیت دے رہی ہیں اور پیسہ اکٹھا کر رہی ہیں۔‘

امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی ہوئی ہے لیکن افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف مطلوبہ کارروائی نہیں کی گئی۔‘

اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو بات چیت کے لیے راضی کرنے کی کوششوں میں مدد کی ہے۔

رپورٹ میں بنگلہ دیش میں بھی دہشت گردی کے معاملات میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ دونوں ہی نے غیر ملکیوں، اقلیتوں اور سیکولر بلاگروں پر حملوں کی ذمہ داری لی ہے.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جوہری معاملات پر بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ معاہدہ ضرور کیا ہے لیکن اس نے حزب اللہ اور دوسرے شدت پسند تنظیموں کو مالی مدد اور تربیت دینا جاری رکھا ہے۔

اسی بارے میں