رومانیہ: بدعنوانی کے خلاف آن لائن آرٹ گیلری کی مہم

Image caption ایک تصویر ’قبرستان میں رشوت‘ کے نام سے بھی ہے جس کا تعلق رومانیہ کے سابق وزیر خزانہ دریوز والکو سے ہے جن پر بدعنوانی کا مقدمہ چل رہا ہے

رومانیہ میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ایک آن لائن ورچوئل آرٹ گيلری بنائي گئی ہے جس میں رشوت سے متعلق مختلف تصاویر تخلیق کی گئی ہیں۔

’دی زیارال ڈی لاسی‘ نامی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ’دی میوزیم آف کرپشن‘ نامی سائٹ پر رشوت سے متعلق طرح طرح کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔

انھی میں سے ایک تصویر ’قبرستان میں رشوت‘ کے نام سے بھی ہے جس کا تعلق رومانیہ کے سابق وزیر خزانہ دریوز والکو سے ہے جن پر بدعنوانی کا مقدمہ چل رہا ہے۔

ان پر مبینہ طور پر قبرستان میں ایک بڑی رقم بطور رشوت وصول کرنے کا الزام ہے۔

اس پروجیکٹ سے متعلقہ فیس بک صفحے کے مطابق یہ طریقہ اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ بدعنوان افسران نے رشوت لینے کو فن کے مقام تک پہنچا دیا ہے۔

اسے ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسی ’کنیکٹیو ازوبار‘ نے تیار کیا ہے۔ ایجنسی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کا مقصد اس بات کو اجاگر کرنا ہے کہ رشوت صرف پیسوں کے لین دین کا نام نہیں بلکہ اس کے اور بھی طریقے ہیں اور وہ لوگوں کو اسی کے متعلق آگہی فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

Image caption رومانیہ میں بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق یورپی یونین میں شامل ملکوں میں سے رومانیہ سب سے زیادہ بدعنوان ممالک سے ایک ہے

رشوت کے جن اصل واقعات کو اس میں پیش کیا گیا ہے اس میں بھیڑ، منرل واٹر اور ایک پُل تک کو دکھایا گیا ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ رشوت کے لین دین کے لیے لوگوں نے مختلف طریقے اپنا رکھے ہیں اور اسی بات کو واضح کرنے کے لیے رشوت سے متعلق مزاحیہ انداز میں ایک سوال نامہ بھی رکھا گیا ہے جہاں لوگ یہ فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں کہ کون سی کہانی درست ہے اور کون سی نہیں۔

اسی سوال نامے کے تحت ایک سوال پوچھا گیا ہے کہ ’کیا پویس افسر واقعی وسکی اور مچھلی بطور رشوت قبول کرتے ہیں؟‘

رومانیہ میں بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق یورپی یونین میں شامل ملکوں میں سے رومانیہ سب سے زیادہ بدعنوان ممالک سے ایک ہے۔

ملک کے سابق وزیر اعظم وکٹر پونٹا ملک کے ایسے بڑے عہدے داروں میں سے ایک ہیں جن کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات چل رہے ہیں۔

اسی بارے میں