والدین جن کا بچہ ہسپتال میں بدل گیا تھا

Image caption مرسی نے مئی سنہ 2015 میں ال سیلواڈور میں اس بچے کو جنم دیا تھا

ایک برطانوی شہری اور ان کی اہلیہ نے گذشتہ سال ال سیلواڈور کے ایک ہسپتال میں اپنا بچہ تبدیل ہو جانے کے بعد اپنے کرب کے بارے میں بتایا ہے۔

رچرڈ کشورتھ اور سیلواڈور سے تعلق رکھنے والی ان کی اہلیہ مرسی کو اپنے بیٹے موزز کے ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد امریکہ جانے کی اجازت مل گئی ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ ان کا بیٹا کسی اور بچے کے ساتھ بدل گیا تھا۔

اس جوڑے کو پیدائش کے سرٹیفیکیٹ کے لیے آٹھ ماہ سے زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑا۔

گذشتہ ستمبر میں یہ دونوں بچے اپنے حقیقی والدین کے حوالے کر دیے گئے تھے۔

بی بی سی ریڈیو4 کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے رچرڈ کشورتھ کی بیوی مرسی نے اس تکلیف کے بارے میں بتایا جو انھیں اس عرصے کے دوران قانونی لڑائی لڑنے اور پھر اس بچے کو واپس دینے پر اٹھانا پڑی جس کی انھوں نے پیدائش کے بعد سے اب تک پرورش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک تو یہ سوچ کہ جس بچے کی پرورش میں کر رہی ہوں، اسے پیار دے رہی ہوں وہ میرا نہیں اور پھر یہ سوچ کہ میرا بچہ کہاں ہے؟ اس طرح میرے دماغ میں دو باتیں چل رہی تھیں کہ اس بچے کا کیا ہو گا اور میرا بچہ کہاں ہے۔‘

مرسی نے مئی سنہ 2015 میں ال سیلواڈور میں اس بچے کو جنم دیا، بچے نے پہلی رات ہسپتال میں گزاری، لیکن اگلے ہی دن انھیں کوئی اور بچہ دے دیا گیا۔

اس جوڑے کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت زبردست بات ہے کہ آخرکار ہم اپنے گھر واپس جا رہے ہیں لیکن ابھی بھی ہمیں نہیں معلوم کہ یہ بچے تبدیل کیسے ہوئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Cushworth family
Image caption گذشتہ ستمبر میں یہ دونوں بچے اپنے حقیقی و الدین کے حوالے کر دیے گئے تھے

مرسی نے بتایا کہ انھیں اس وقت شک ہوا جب انھیں نے محسوس کیا کہ جو بچہ پہلے انھیں دیا گیا تھا اس میں اور اس بچے کی شکل و شباہت میں فرق تھا۔

’اس بچے کو میرے پاس لایا گیا، میں نے اسے بوسہ دیا اور پھر اسے ہسپتال کی نرسری میں لے جایا گیا اور یہ آخری بار تھی جب میں نے اسے دیکھا تھا۔‘

اگلے دن شکوک کے باوجود نرس ان کے پاس بچہ لائیں اور بار بار کہتی رہیں کہ یہ انھی کا بچہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے محسوس کیا کہ دوسرے بچے کی جلد کی رنگت نسبتاً سانولی تھی۔

ٹیکسس واپس آنے پر مرسی نے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تو معلوم ہوا کہ ان کے اسے بچے کی ماں ہونے کے صفر فیصد امکانات ہیں۔

’میں یہ سن کر زمین پر گر گئی۔‘

اسی بارے میں