شیر کے بچوں کی لاشیں، خانقاہ انتظامیہ کو مقدمے کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خانقاہ کی انتظامیہ پر جانوروں کی لاشوں کو بغیر اجازت رکھنے کا مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے

تھائی لینڈ میں جنگلی حیات کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بودھ خانقاہ کے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے جہاں سے شیروں کے 40 بچے مردہ حالت میں ملے ہیں۔

تھائی لینڈ میں حکام اس بودھ خانقاہ کی انتظامیہ پر جنگلی جانوروں کی سمگلنگ اور ان سے بدسلوکی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

٭ خانقاہ سے شیر کے 40 بچوں کی لاشیں برآمد

٭ شیر کے بچوں کی لاشیں فریزر سے برآمد (تصاویر)

پولیس اور جنگلی حیات کے محکمے کے حکام نے رواں ہفتے اسی خانقاہ سے 137 شیروں کی منتقلی کا کام شروع کیا تھا۔

خانقاہ کی انتظامیہ اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتی ہے اور ماضی میں شیروں کی منتقلی پر مزاحمت کرتی رہی ہے۔

شیروں کی بچوں کی لاشیں بدھ کو واٹ پھا لوانگ ٹا بوا نامی خانقاہ کے ایک فریزر سے ملی تھیں۔ ان لاشوں کے ساتھ دوسروں جانوروں کے اعضا بھی پائے گئے تھے۔

پولیس کرنل بندتھ میونسکم نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ بچے ایک یا دو دن کی عمر کے ہو سکتے ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی موت کب ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس خانقاہ کے راہبوں پر غیرقانونی طور پر شیروں کی ا‌فزائش نسل اور جانوروں کی سمگلنگ کا الزام ہے

ان کا کہنا تھا کہ شیر کے ان بچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ اس بات کی جانچ کی جا سکے کہ ان کا تعلق اسی جگہ پر موجود دیگر شیروں سے ہے۔

نیشنل پارکس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ خانقاہ کے ایک ملازم نے بتایا کہ ’انھیں شیر کے بچوں کی لاشوں کو کولڈ سٹوریج میں رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔‘

اہلکار کے مطابق خانقاہ کی انتظامیہ پر لاشوں کو بغیر اجازت رکھنے کا مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ تھائی صوبے کنچنابوری میں واقع یہ خانقاہ سیاحوں میں بہت مقبول ہے اور برسوں سے جانوروں کو یہاں سے لے جانے کے خلاف مزاحمت ہو رہی ہے۔

اس خانقاہ کے راہبوں پر غیرقانونی طور پر شیروں کی ا‌فزائش نسل اور جانوروں کی سمگلنگ کا الزام ہے۔

اسی بارے میں