یاماتو تنُوکا جنگل میں کیسے زندہ رہا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شمالی جاپان کے پہاڑوں میں تقریباً ایک ہفتے تک لاپتہ رہنے والے اس سات سالہ بچے جسے اس کے والدین نے بطور سزا جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا تھا تو تلاش کر لیا گیا ہے اور وہ اب محفوظ اور ٹھیک ہے۔

یاماتو تنُوکا نامی بچہ کیسے زندہ رہا اور اس نے چھپنے کی جگہ کیسے تلاش کی، اور اس علاقے میں موجود ریچھ کتنا بڑا خطرہ تھے؟

یاموتو کو اس کے والدین پتھر پھینکنے پر بطور سزا ہوکیدو میں نانائی کے قریب گھنے درختوں کے درمیان سڑک پر مختصر وقت کے لیے اکیلا چھوڑ گئے تھے۔ جب وہ چند منٹ بعد وہاں واپس آئے تو یاموتو تُنوکا وہاں سے جا چکا تھا۔

٭ جاپان کے جنگل میں لاپتہ ہو جانے والا بچہ مل گیا

٭ والدین نے سات سالہ بچے کو’بطور سزا‘جنگل میں چھوڑ دیا

ایک ایسے علاقے میں جہاں رات میں درجہ حرارت کم ہو کر نو سیلسیئس تک آجاتا ہے میں اس بچے نے صرف ٹی شرٹ اور جینز پہن رکھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

نیسیکو ایڈوینچر سینٹر کے بانی راس فینڈلی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سال کے اس حصے میں یہاں موسم عام دنوں کی نسبت زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں نیسیکو میں پہاڑوں پر برف ہوتی ہے لیکن شاید نانائی میں ایسا نہ ہو لیکن پھر بھی ایک چھوٹے بچے کے لیے جس کے جسم میں زیادہ چربی نہیں ہوتی کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔‘

یہ دور دراز کا علاقہ بلوط، برچ کے درختوں کو چھوٹے پتوں کی وجہ سے گھنے جنگل کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔

راس فینڈلی نے بتایا کہ ’جنگل میں یہ چھوٹے پودے جس چیز سے بنتے ہیں اسے ساسا کہا جاتا ہے۔‘

’خاص طور پر ایک چھوٹے بچے کے لیے اگر وہ ان گھنے پودوں میں زمین پر لیٹ جائے تو اسے تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بچے کو تلاش کرنے میں شدید بارش بھی ایک بڑی روکاوٹ بنی۔

یاماتو تنُوکا خوش قسمت ہونے کے ساتھ ساتھ عقلمند بھی رہے۔ وہ جمعے کو لاپتہ ہونے والی جگہ سے پانچ اعشاریہ پانچ کلو میٹر دور ایک فوجی اڈے سے ملے۔

مبینہ طور پر اس مقام کا پیر کی صبح بھی جائزہ لیا گیا تھا لیکن یہ سات سالہ بچہ نہیں ملا تھا۔ ان کو تلاش کرنے والی ٹیم 180 افراد اور کھوجی کتوں پر مشتمل تھی۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جس فوجی نے تُنوکا کو تلاش کیا وہ اس سے قبل تلاش کی جانے والی کوششوں کا حصہ نہیں تھے۔

یاموتو تُنوکا نے پولیس کو بتایا کہ جب انھیں ان کے والدین چھوڑ گئے تو وہ خود چل کر اس فوجی اڈے تک آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اطلاعات کے مطابق انھوں نے بتایا کہ ’میں صرف پانی پیتا رہا کیونکہ یہاں کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔‘

وہ اس فوجی بیرکس میں موجود میٹریس پر سوتے تھے۔

کیا وہ جنگل میں خوراک تلاش کر سکتے تھے؟

کانٹو ایڈوینچرز کے صدر ڈیوڈ نیہاف کے مطابق: ’سال کے اس حصے میں یہ ممکن نہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’موسم بہار کا آغاز ہونے والا ہے اور چیزیں اگنا شروع ہو ہی رہی ہیں۔‘

’اس کے لیے آپ کو مقامی معلومات بھی ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوکہ کیا کھانا محفوظ ہوگا، کیونکہ یہاں زہریلے پودے بھی اگتے ہیں، لیکن عام طور پر یہاں جنگلی خوراک زیادہ نہیں ہوتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

تاہم پانی کا گڑھا جیسا کہ یاموتو نے تلاش کیا تھا اور وہ وہاں سے پانی پیتے رہے محفوظ ہو سکتا ہے۔

یاموتو تُنوکا کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انھیں معمولی زخم آئے ہیں لیکن انھیں ہایپوتھرسیا کی معمولی سی شکایت ہے۔

مسٹر فینڈلے کا کہنا ہے کہ ’خوراک کا نہ ہونا ان میں تونائی کی کمی کا سبب بن سکتا تھا جو کہ زیادہ خطرناک ہوسکتا تھا۔‘

لیکن ان ریچھوں کا کیا؟

ہوکیڈو بھورے ریچھوں کا گھر مانا جاتا ہے جو تقریباً چھ فٹ پانچ انچ تک بڑے ہو سکتے ہیں لیکن وہ ممکنہ طور پر خطرہ نہیں تھے۔

راس فینڈلی نے بتایا کہ ’ریچھ عام طور پر اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اس لیے بہتر یہ ہے کہ آپ کچھ شور مچائیں تاکہ آپ کی موجودگی کا علم انھیں ہو جائے اور وہ دوسری جانب چلے جائیں۔‘

اسی بارے میں