جاپان کے جنگل میں لاپتہ ہو جانے والا بچہ مل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شمالی جاپان کے پہاڑوں میں لاپتہ ہونے والے اس سات سالہ بچے کو تلاش کر لیا گیا ہے جسے اس کے والدین نے بطور سزا جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا تھا۔

جاپانی میڈیا کے مطابق فوجی حکام نے بتایا ہے کہ یاماتو تنُوکا فوجیوں کی بیرکس کے قریب سے ملا اور اس کی صحت اچھی ہے۔

اس سے قبل بچے کے والدین نے پولیس کو بتایا تھا کہ جب وہ سبزی لینے گئے تھے اس وقت ان کا بچہ گم ہو گیا تھا۔

تاہم بعد میں انھوں نے تسلیم کیا کہ انھوں نے بچے کو بطور سزا پانچ منٹ کے لیے اکیلا چھوڑ دیا تھا لیکن جب وہ واپس آئے تو وہ وہاں موجود نہیں تھا۔

بچہ ملنے کے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے یاماتو تنوکا کے والد کا کہنا تھا ’ میں اپنے بیٹے کے سکول والوں، اسے تلاش کرنے والوں اور ان تمام افراد جن کو میری وجہ سے تکلیف ہوئی معذرت چاہتا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میں نے اپنے بیٹے پر اپنی پوری محبت نچھاور کر دی ہے لیکن اب میں اسے اور پیار کرنا چاہوں گا، وہ جیسے جیسے بڑا ہو گا میں اسے تحفظ دینا چاہوں گا۔‘

جاپان کے خبر رساں ادارے این ایچ کے کا کہنا ہے کہ جب فوجیوں کو یہ بچہ ملا تھا انھیں خود بچے نے اپنی شناخت بتائی۔

وہاں اسے خوراک اور پانی دیا گیا اور بعد میں ہسپتال پہنچایا گیا۔

لاپتہ ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر اس بچے کی تلاش کی جا رہی تھی اور ایمرجنسی سروسز کے عملے کے سینکڑوں ارکان اس کی تلاش میں شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Kyodo
Image caption بچے کے والدین بچے کو چھوڑ کر تقریباً پانچ سو میٹر دور گئے تھے

سنیچر کو بچے کے والدین نے اسے شمالی ہوکیدو کے علاقے میں چھوڑ دیا تھا جس کے بعد سے وہ لا پتہ رہا۔ یہ علاقہ جنگلی ریچھوں کا گھر سمجھا جاتا ہے۔

بچے کے والد نے سینکی اخبار کو بتایا ’میں اس کو نظم و ضبط سکھانا چاہتا تھا چنانچہ میں نے اس کو ڈرانے کے لیے گاڑی سے باہر نکال دیا۔‘

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ بچے نے قریب ہی واقع ایک پارک میں سیر کے دوران گاڑیوں اور لوگوں پر پتھر پھینکے تھے اس لیے انھوں نے سختی کی۔

آساہی ٹی وی کے مطابق بچے کے والدین بچے کو چھوڑ کر تقریباً پانچ سو میٹر دور گئے تھے۔

اسی بارے میں