فلوجہ میں ’زیرحراست افراد پر شیعہ ملیشیا کا تشدد‘

Image caption شیخ رجع الساوی کا کہنا تھا کہ رہا ہونے والے افراد شدید تشدد کے نشانات دکھائے ہیں

عراق کے صوبہ انبار میں حکومت سے فلوجہ شہر میں لڑائی کے دوران حراست میں لیے گئے شہریوں پر شیعہ ملیشیا کی جانب سے تشدد کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

صوبہ انبار کی صوبائی کونسل کے رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے نواحی علاقے سقلاویہ میں حکومتی فوجوں کی شدت پسند تنظیم دولت سے لڑائی کے دوران سینکڑوں افراد و حراست میں لیا گیا ہے۔

شیخ رجع الساوی کا کہنا تھا کہ رہا ہونے والے افراد نے اپنے جسموں پر شدید تشدد کے نشانات دکھائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تشدد کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ دیگر تشویش ناک حالت میں ہسپتال میں داخل ہیں۔

شیعہ ملیشیا شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے سنہ 2014 میں عراق کے زیرقابض علاقوں کا قبضہ چھڑوانے میں مد کر رہی ہے اور اس پر سنی شہریوں پر شدید تشدد کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

شیعہ ملیشیا نے ان الزامات کی تردید کی ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ فلوجہ میں آخری معرکے میں شیعہ ملیشیا کو شامل نہیں کرے گی کیونکہ اس سنی اکثریتی شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا خطرہ ہے۔

خیال رہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز اور الحشد الشعبی ملیشیا میں اکثریت شیعہ جنگجوؤں کی ہے اور انھوں نے گذشتہ دنوں سقلاویہ کی جانب پیش قدمی کی تھی۔

سقلاویہ دولت اسلامیہ کے گڑھ فلوجہ کے شمال مغرب میں سات کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ دنوں سقلاویہ کی جانب پیش قدمی کی تھی

شیخ اساوی کا کہنا تھا کہ اس لڑائی کے دوران 605 افراد کو حراست میں لیا گیا اور فلوجہ کے مشرق میں واقع المزرعہ فوجی اڈے پر اتوار کی شب کو پہنچایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنھیں رہا کیا گیا انھوں نے بتایا کہ شیعہ ملیشیا کے ارکان نے تفتیش کے دوران ان پر تشدد کیا تاکہ اس بات کی یقین دہانی کی جائے کہ وہ دولت اسلامیہ کے جنگجو نہیں ہیں۔

مبینہ طور پر رہا ہونے والوں کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں متعدد افراد کو سر اور جسم کے اوپر والے حصوں میں زخموں کی مرہم پٹی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

شیخ اساوی اور صوبائی کونسل کے دیگر ارکان نے وزیراعظم حیدر العبادی سے مبینہ تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اتوار کو حیدرالعبادی کے ترجمان نے کہا تھا کہ انسانی حقوق کی ایک کمیٹی شہریوں کے ساتھ ناروا سکوک کی جانچ پڑتال کرسکتی ہے۔

سعد الحدیثی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کسی بھی تشدد میں ملوث افراد کے خلاف ’سخت احکامات‘ جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں