اردن میں انٹیلی جنس افسران پر حملے میں پانچ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اردن میں اس قسم کے واقعات شازو نازر ہوتے ہیں

اردن میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس افسران پر ایک حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ حملہ پیر کو دارالحکومت عمان کے نواح میں واقع فلسطینی پناہ گزیں کیمپ میں کیا گیا۔

حکام کی جانب سے اس واقعے کو ’دہشت گردی‘ قرار دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے ہلاک ہونے والے پانچ افراد میں تین انٹیلی جنس افسران ہیں۔

یہ حملہ عمان کے شمال میں واقع بقعہ کیمپ میں مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے (جی ایم ٹی کے مطابق چار بجے ) کیا گیا۔

بقعہ کیمپ سنہ 1967 میں عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں غرب اردن اور غزہ سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینی مہاجرین کے لیے سنہ 1968 میں بنائے گئے چھ کیمپوں میں سے ایک ہے۔

خیال رہے کہ اردن شام اور عراق میں امریکہ کی قیادت میں دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں بھی شامل ہے اور اس کی فضائیہ نے ان دونوں ممالک میں بمباری بھی کی ہے۔

تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی فرد یا تنظیم نے قبول نہیں ہے۔

اردن کی حکومت کے ترجمان محمد مومانی کا کہنا تھا کہ اس ’بزدلانہ‘ حملے میں کیمپ میں واقع انٹیلی جنس ایجنسی کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انھوں نے اس حملے کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس میں وہ لوگ ملوث ہیں ’جو ہمارے مذہب سے باہر لوگوں جیسا مجرمانہ رویہ رکھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption بقعہ اردن کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ ہے

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق محمد مومانی کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک اجرتی مزدور اور ایک ریسپشنسٹ شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز حملہ آوروں کی تلاش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ حملہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے پہلے دن کیا گیا ہے۔

رواں سال مارچ میں اردن کا کہنا تھا کہ اس نے اربد شہر میں ایک کارروائی کے دوران شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے حملوں کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا تھا جس میں سات مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کے ادارے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کا کہنا ہے کہ بقعہ اردن کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ ہے۔

اس اندازے کے مطابق یہاں ایک لاکھ سے زائد پناہ گزیں قیام پذیر ہیں۔

خیال رہے کہ اردن میں شام کی خانہ جنگی سے متاثرہ بڑی تعداد میں شامی پناہ گزیں بھی قیام پذیر ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق شامی پناہ گزینوں کی تعداد چھ لاکھ 35 ہزار ہے۔

گذشتہ سال اردن کے بادشاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کی آمد میں اضافے کے باعث ان کا ملک میں حالات بےقابو ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں