یمن جنگ: سعودی اتحاد بلیک لسٹ سے خارج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوامِ متحدہ نے یمن میں حوثی باغیوں سے لڑنے والے سعودی اتحاد کا نام اس بلیک لسٹ سے نکال دیاہے جس میں وہ ممالک شامل ہیں جو جنگ کے دوران بچوں کے حقوق پامال کرتے ہیں۔

یہ فیصلہ سعودی عرب کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔

٭ جنگ بندی کے بعد کا یمن

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ جاری ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی اتحاد میں شامل ممالک اور گروہ یمن میں گذشتہ سال سینکڑوں بچوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے ذمہ دار ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ سعودی اتحاد کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایک جائزہ لے گا جس میں اس رپورٹ میں پیش کیے جانے والے مخصوص کیسز تک رسائی ہو گئی۔

تاہم اقوامِ متحدہ میں تعینات سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد کا نام بغیر کسی شرط کے بلیک لسٹ نکالا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عبداللہ المعلمی نے کہا کہ ’فہرست سے نام ہٹایا جانا غیر مشروط اور ناقابل تنسیخ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت کو اس بارے میں کیے جانے والے از سر نو جائزے سے کوئی پریشانی نہیں اور وہ پراعتماد ہیں کہ جانچ میں یہ بات سامنے آئے گی ’اتحاد کو اس فہرست میں ڈالنا غلطی تھی۔‘

اس سے قبل انھوں نے درستگی کے لیے فوری کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کی اس میں شمولیت ’غلط اور نامکمل معلومات پر مبنی ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کی جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ برس سنہ 2015 میں یمن میں مجمموعی طور پر 1953 بچے ہلاک ہوئے جن میں 60 فیصد بچوں کی ہلاکتوں کی وجہ سعودی اتحاد کے حملے بتائے گئے ہیں۔

عبداللہ المعلمی نے کہا اتحاد کے نام جو ہلاکتیں کی جا رہی ہیں وہ ’بہت زیادہ مبالغہ ہیں کیونکہ ہلاکتیں ان سے بہت کم ہیں۔‘

پیر کی شام اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک کے بیان میں کہا گیا کہ بان کی مون نے اقوام متحدہ اور سعودی عرب کے مشترکہ جائزے کی تجویز کو قبول کیا ہے اور اتحاد کی ٹیم کو جلد از جلد نیویارک بلایا ہے تاکہ اگست میں سکیورٹی کونسل کی جانچ سے قبل اس کے بارے میں تفصیلی بات چیت ہو سکے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے نائب ڈائرکٹر فلپ بولوپیئن نے کہا کہ ان کی تنظیم نے بھی اتحادی فضائی حملے میں بچوں، سکولوں اور ہسپتالوں پر ہونے والے اثرات کو دستاویزی شکل دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فضائی حملوں میں گذشتہ سال سکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گيا ہے

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر ’سیاسی جوڑ توڑ اور انسانی حقوق کی اپنی وراثت پر دھبہ لگانے کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ سال اسی طرح کی چھوٹ اسرائیل کو دینے کے بعد اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل کا دفتر سعودی عرب کے دباؤ میں آکر اپنی حالیہ شائع فہرست سے اس کا نام نکال کر مزید نیچے چلا گیا ہے۔

بولوپین نے کہا کہ ’یمن کے بچے اس سے زیادہ کے مستحق ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نصف سے زائد حملے سکولوں اور ہسپتالوں پر کیے گئے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن جنگ میں ایک سال سے زائد عرصے میں 6000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد معصوم شہریوں کی ہے۔

اسی بارے میں