جنسی زیادتی کے 71 جرائم پر 22 مرتبہ عمر قید

رچرڈ ہکل تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رچرڈ ہکل نے ملیشیا میں تقریباً 200 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا

برطانوی عدالت اولڈ بیلی کے ایک جج نے ایک برطانوی شہری رچرڈ ہکل کو ملیشیا میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 71 جرائم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

کینٹ کے علاقے ایشفورڈ سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ رچرڈ نے 2006 سے لے کر 2014 تک چھ ماہ سے 12 سال تک کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کو تسلیم کیا تھا۔

انھیں 22 مرتبہ عمر قید سنائی گئی اور وہ کم از کم 23 سال سلاخوں کے پیچھے گزاریں گے۔

خیال ہے کہ رچرڈ ہکل نے ملیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں تقریباً 200 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق غریب برادری سے تھا۔

انھوں نے اپنے آپ کو مذہب پر پوری طرح عمل کرنے والا عیسائی ظاہر کیا اور 18، 19 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ ملیشیا کا دورہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہوئے بچوں کو ’گروم‘ یا تیار کرنا شروع کیا۔

ان کو سزا سناتے ہوئے جج پیٹر رووک کیو سی نے کہا: ’یہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ کوئی جج اتنے زیادہ جنسی زیادتیوں کے جرائم میں کسی ایک شخص کو سزا سنائے۔‘

تفتیش کاروں نے ان کے قبضے سے بچوں کی 20,000 غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز برآمد کیے، جو کہ انھوں نے ویب سائٹ کے ذریعے دنیا بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتیاں کرنے والوں کے ساتھ شیئر کیے تھے۔

جب انھیں نیشنل کرائم ایجنسی نے گرفتار کیا تو وہ اس وقت ان تصاویر کو جاری کر کے کاروبار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسی بارے میں