شمالی کوریا کا ینگ باین جوہری ری ایکٹر’دوبارہ فعال‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جوہری توانائی کے نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے بظاہر یونگ باین میں واقع جوہری مرکز کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔

یونگ باین میں جوہری بجلی گھروں میں استعمال شدہ ایندھن کو ’پراسیس‘ کیا جاتا ہے اور وہ ملک کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے پلوٹونیم فراہم کرنے کا ذریعہ رہا ہے۔

٭ شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ ’ناکام‘

٭ شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر اقوامِ متحدہ کو تشویش

یہ ری ایکٹر سنہ 2007 میں بند کر دیا گیا تھا تاہم شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اسے گذشتہ سال دوبارہ فعال کیا گیا۔

اس ری ایکٹر کے فعال ہونے کے بعد شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کا چوتھا تجربہ کیا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اور متعدد میزائل تجربات کے بعد خطے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا پر سنہ 2006 میں جوہری تجربہ کرنے اور بیلسٹک میزائل کے استعمال کی پابندی عائد کی تھی۔

آئی اے ای اے کو شمالی کوریا کے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں ہے اور وہ زیادہ تر سیٹلائیٹ ڈیٹا پر انحصار کرتا ہے۔

تاہم آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا امانو کا کہنا ہے کہ حالیہ تصاویر میں پانچ میگا واٹ ری ایکٹرپر سرگرمیوں، افزودگی کے پھیلاؤ اور دیگر ری پروسیسنگ کی سرگرمیوں کے اشارے ملے ہیں۔

اے ای اے کے مطابق شمالی کوریا کی جوہری سائٹ کے پاس گاڑیوں کی آمدو رفت بھی دیکھی گئی ہے اور اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ وہاں گرم پانی کو ڈسچارچ کیا جا رہا ہے جو کولنگ آپریشنز کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

شمالی کوریا کے دیگر مبصرین نے گذشتہ مہینوں میں یہ کہا ہے کہ جوہری پلانٹ نے دوبارہ کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں شمالی کوریا پر مزید نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔

یکم اپریل کو امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور چین نے فیصلہ کیا ہے کہ شمالی کوریا کو مستقبل میں میزائل ٹیسٹ کرنے سے روکیں گے۔

اس کے باوجود شمالی کوریا نے مغربی ممالک کو دھمکیاں دیتے ہوئے ہائیڈروجن بم اور پھر طویل فاصلے تک جانے والے میزائل کے تجربات کیے۔

اسی بارے میں