کیا امریکہ دنیا کی قیادت جاری رکھے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

عراق اور افغانستان میں جنگوں سے دنیا بھر میں امریکہ کی عالمی قیادت کے بارے میں تصورات بدل گئے ہیں، کہ اسے دنیا اور خود امریکہ کے اندر کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔

اس بات کا نئے امریکی صدر کی خارجہ پالیسی پر کیا اثر پڑے گا؟

کہا جاتا ہے کہ جب جنوری 2009 میں براک اوباما نے اقتدار سنبھالا تو انھیں دو جنگیں اور ایک معاشی بحران ورثے میں ملے۔

اس وقت انھوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ صدر بش کے مداخلت والے دور کو بدل کر امریکی خارجہ پالیسی کو نیا رخ دیں گے۔

ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے کارنیگی انڈاؤمنٹ کی جین ہرمین نے کہا کہ ’اگلی صدر جو کوئی’عورت‘ ہو، اسے اپنی پالیسی واضح طور پر بیان کرنی چاہیے۔ ہم خود کو اچھی طرح بیان نہیں کر پاتے، خارجہ پالیسی میں امریکی اقدار اور مفاد کا احاطہ ہونا چاہیے۔‘

واضح ترجیح

سابق نائب سیکریٹری خارجہ بل برنز کہتے ہیں کہ اگلے صدر کی خارجہ پالیسی کی ترجیح واضح ہے، ایشیا پیسیفک اور چین۔

انھوں نے چین کی جانب سے بحیرہ جنوبی چین پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے زیادہ موثر خارجہ پالیسی کی ضرورت محسوس کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

تاہم وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ نئے صدر کو دنیا بھر میں امریکی اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ ’یہ صرف امریکہ اور چین کا مسئلہ نہیں، بلکہ بین الاقوامی قوانین کا ہے کیونکہ دنیا بھر کا نصف تجارتی سامان جنوبی بحیرۂ چین سے گزرتا ہے۔‘

ایرانی ’خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برنز کو صدر اوباما نے 2013 میں ایران سے خفیہ مذاکرات کرنے کے فرائض سونپے تھے۔

ان مذاکرات کی وجہ سے 2015 کے ایٹمی معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔ تاہم یہ معاہدہ امریکی رپبلکن پارٹی، اسرائیل اور خلیجی ملکوں کو پسند نہیں آیا۔

برنز کے مطابق ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے باز رکھا جا سکتا ہے، لیکن وہ نئے صدر کو مشورہ دیتے ہیں کہ ’مجھے کبھی بھی توقع نہیں تھی کہ ایرانی رویے میں کوئی بڑی تبدیلی واقع ہو گی۔ ایران اور اس کے افعال ایک عرصے تک ہمارے اور ہمارے دوستوں کے مفادات کے لیے خطرہ بنیں رہیں گے۔‘

ایران اور روس شامی تنازعے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور صدر بشار الاسد کے اہم حامی ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کے پشت پناہی والے جنگجو عراق میں دولتِ اسلامیہ سے لڑ رہے ہیں۔

سٹیون ہیڈلی جارج بش کی حکومت میں قومی سلامتی کے مشیر تھے۔

ان کا خیال ہے کہ صدر اوباما کے مشرقِ وسطیِ کے تنازعے سے خود کو الگ کرنے کے عزم کے باوجود یہ بات ناگزیر ہے کہ اگلے صدر کے دور میں وہاں امریکی موجودگی میں اضافہ ہو گا۔

مشکل دور

’آپ اس خطے میں صرف دولتِ اسلامیہ سے لڑ کر مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ عراق اور شام انتشار کا شکار ہو رہے ہیں اور اگر ہم نے وہاں گورننس اور استحکام قائم کرنے کی کوشش نہیں کی تو وہاں دولتِ اسلامیہ 2 کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔‘

ہیڈلی سمجھتے ہیں کہ نئے صدر کو مشکل دور میں اقتدار ملے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد ایک نیا لبرل انٹرنیشنل آرڈر وجود میں آ گیا تھا، لیکن اب اسے ’روس اور چین میں قائم ہونے والی سرمایہ دارانہ استبدادی حکومتوں، مشرقِ وسطیٰ کے انتشار اور جنوبی کوریا کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔‘

عالمی قیادت

لیکن کیا امریکہ اب بھی نئے بین الاقوامی آرڈر کا سربراہ بننے کا خواہاں ہے؟

سٹیون ہیڈلی کے خیال کے مطابق اس بات پر انتخابی مہم کے دوران بحث ہونی چاہیے۔

جین ہارمین سمجھتی ہیں کہ اس سوال کا جواب آسان نہیں: ’دنیا بھر کے ہر تنازعے کے بیچ میں رہنا۔۔۔ نہیں، شکریہ، امریکہ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دے گا۔‘

یہ وہ حکمتِ عملی ہے جو بعض لوگوں کو پسند آئے گی، لیکن عشروں سے امریکہ سے دنیا کی قیادت کی توقع رکھنے والے کیا اسے ہضم کر پائیں گے؟