کلنٹن ’تاریخی لمحے‘ کے لیے حامیوں کی شکرگزار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلیری کلنٹن اہم امریکی پارٹی کی جانب سے پہلی خاتون امیدوار بننے کے لیے تیار ہیں

ہلیری کلنٹن نے امریکہ کی تاریخ میں خواتین کے تاریخی لمحے تک پہنچنے کے لیے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

نیوجرسی میں فتح کے ساتھ انھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کے لیے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے۔

نیویارک میں خوشیاں مناتے ہوئے حامیوں سے انھوں نے کہا: ’آپ کا شکریہ، ہم نے سنگ میل تک رسائی حاصل کر لی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمارے ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی اہم پارٹی کی جانب سے کوئی خاتون امیدوار ہو گی۔‘

٭ ہو ہی نہیں سکتا کہ میں صدارتی امیدوار نہ ہوں: ہلیری

٭ ’ٹرمپ خطرناک حد تک الجھی ہوئی شخصیت ہیں‘

اس کے چند گھنٹے بعد انھوں نے کیلیفورنیا کا ڈیموکریٹک پرائمری مقابلہ جیت لیا۔ منگل کو ہونے والے پرائمری انتخابات میں انھوں نے کل ملا کر چھ میں چار ریاستوں میں کامیابی حاصل کی، اور کیلیفورنیا کے علاوہ نیوجرسی، ساؤتھ ڈکوٹا اور نیو میکسیکو اپنے نام کر لیے۔

ان کے حریف برنی سینڈرز نے مونٹینا اور نارتھ ڈکوٹا میں برتری حاصل کی۔ وہ اب تک صدارتی نامزدگی کی دوڑ سے باہر ہونے پر آمادہ نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برنی سینڈرز نمائندگی کے لیے سپر ڈیلیگیٹس پر بھروسہ کر رہے ہیں

اس سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں کہا گیا تھا کہ کیلیفورنیا میں سخت مقابلہ ہو گا لیکن کلنٹن نے 13 فیصد کی واضح برتری سے کامیابی حاصل کی۔

سینڈرز کو توقع تھی کہ وہ امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا سے جیت کر اپنی مہم کو تقویت دیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

انھوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 14 جون کو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے انتخابات تک میدان میں رہیں گے، تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ ان کی راہ بہت کٹھن ہے۔

اس سے قبل خبررساں ادارے اے پی نے پیر کو خبر دی تھی کہ سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار بننے کے لیے درکار مندوبین کی مطلوبہ تعداد حاصل کر لی ہے۔

اے پی کے مطابق ہلیری کلنٹن کے حمایتی مندوبین کی تعداد 2,383 ہوگئی ہے جس کے بعد وہ اپنی جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کر سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے

برنی سینڈرز جولائی میں ہونے والے پارٹی کے اجلاس میں سپر ڈیلیگیٹس کو اپنی جانب کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ورمونٹ کے سینیٹر اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔

اس طرح ہلیری کلنٹن اہم امریکی پارٹی کی جانب سے پہلی خاتون امیدوار بننے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے نیو جرسی میں اپنی جیت کے بعد ٹویٹ کیا: ’ہر اس لڑکی کے لیے جو بڑے خواب دیکھتی ہے: ہاں، تم جو چاہتی ہو وہ بن سکتی ہو، یہاں تک کہ صدر بھی۔ آج کی رات تمہاری ہے۔‘

دوسری جانب رپبلکن کے ممکنہ امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو جرسی میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کامیابی کے بعد نومبر میں ہونے والے انتخابات کی جانب اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے کہا: ’ابھی ہم تو یہ ہمارا صرف آغاز ہے، آگے کا سفر بہت خوبصورت ہو گا۔‘

اسی بارے میں