انڈیا امریکہ ایک دوسرے کے فوجی نظام کے استعمال پر رضامند

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption واشنگٹن میں امریکی صدر اوباما اور انڈین وزیر اعظم مودی کے درمیان ملاقات ہوئي

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر براک اوباما سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے جس میں عالمی حدت، جوہری عدم پھیلاؤ، دفاع اور توانائی سمیت کئی دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

٭ ’انڈیا بہترین ساتھی‘

انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان ویکاس سوروپ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ (این ایس جی) میں انڈیا کی رکنیت کے لیے حمایت پر صدر براک اوباما کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے لیے ووٹنگ رواں ماہ کے آخر میں ہو رہی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے جہاں ایک طرف انڈیا کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے میں بھرپور تعاون کا وعدہ کیا ہے وہیں انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انڈیا رواں سال کے آخر تک پیرس میں ہونے والے ماحولیات کے معاہدے کو باضابطہ طور سے اپنا لے گا۔

واشنگٹن میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اس دستاویز پر بھی اتفاق کیا گیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کے فوجی نظام کا استعمال کر سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption مودی نے امریکہ کا شکریہ ادا کیا

اس پر نظریاتی طور پر پہلے سے ہی اتفاق ہے لیکن اب طرفین اس دستاویز کی زبان پر راضی ہو گئے ہیں اور ایک امریکی اہلکار کے مطابق بہت جلد اس پر دستخط ہو جائیں گے۔

دونوں ہی فریقوں نے امریکی جوہری توانائی کمپنی ویسٹنگ ہاؤس کو انڈیا میں چھ ایٹمی بجلی گھر بنانے کا ٹھیکہ دینے پر بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔

بش انتظامیہ کے دوران ہونے والے جوہری معاہدے کے بعد یہ پہلی امریکی کمپنی ہے جسے انڈیا میں یہ پاور ہاؤس لگانے کی منظوری ملی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا اور امریکہ دونوں ہی جگہ اس سے ہزاروں روزگار پیدا ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تمام صورتوں میں صدر اوباما کے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ انڈیا موسمیاتی تبدیلی کے متعلق پیرس معاہدے کو باضابطہ طور پر جلد از جلد اپنا لے۔

صدر اوباما اور وزیر اعظم مودی کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ خود بھی رواں سال جتنی جلدی ممکن ہو اس معاہدے کو اپنا لے گا اور انڈیا بھی اس مقصد کو حاصل کرنے میں ان کے ساتھ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MEA
Image caption انڈیا کو امریکہ اور چین کے بعد سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیس خارج کرنے والا ملک کہا جاتا ہے

جہاں اوباما انتظامیہ کے حکام اس معاہدے کے بارے میں انڈیا کی رضامندی کی انتہائی حوصلہ افزا تصویر پیش کر رہے تھے، وہیں انڈین حکام اس کو اپنانے کے راستے میں اندرونی قانونی روكاوٹوں کا بھی ذکر کر رہے تھے۔

انڈین سیکرٹری خارجہ سبرمنيم جے شنكر نے کہا کہ حکومت اس معاہدے کے متعلق مستقبل کے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

پیرس میں ہونے والا ماحولیاتی سمجھوتہ اس وقت قابل نفاذ ہو سکتا ہے جب کم از کم 55 ملک جو دنیا میں 55 فیصد گرین ہاؤس گیس کا اخراج کرتے ہیں وہ باضابطہ طور پر اس میں شامل ہو جائیں۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر انڈیا جلد ہی اس میں شامل ہو جاتا ہے تو صدر اوباما کے دور حکومت کے دوران ہی یہ معاہدہ قابل اطلاق ہو جائے گا۔

انڈیا کو امریکہ اور چین کے بعد سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیس خارج کرنے والا ملک کہا جاتا ہے۔

ایک جانب اگر امریکہ موسمیاتی تبدیلی پر انڈیا کی بھرپور حمایت کی کوشش میں ہے تو دوسری جانب وزیر اعظم مودی نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی رکنیت کے لیے امریکہ سے مکمل تعاون چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption انڈیا اور امریکہ کے درمیان روابط میں اضافہ ہوا ہے

اوباما نے اس کی یقین دہانی کی ہے۔ ایک سینیئر امریکی افسر کا کہنا تھا کہ ’ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ انڈیا کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت اس ماہ کے اواخر میں ہونے والی ووٹنگ میں ہی مل جائے۔‘

این ایس جی کی یہ ملاقات سیول میں ہونی ہے۔

ایسا کہا جاتا ہے انڈیا کی رکنیت کی راہ میں چین سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ چین پاکستان کو بھی اس کی رکنیت دلوانے کے حق میں ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگرانڈیا کو اس کی رکنیت مل گئی تو اسے ویٹو کا حق مل جائے گا اور وہ پاکستان کو اس گروپ کی رکنیت کبھی نہیں حاصل کرنے دے گا۔

اسی بارے میں