صدارت سنجیدہ کام ہے، ٹی وی شو نہیں: براک اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی صدر براک اوباما نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں امید ظاہر کی ہے کہ ان کی ڈیموکریٹک پارٹی آئندہ دو ہفتوں میں متحد ہو جائے گی۔

ان کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ہلیری کلنٹن نے پرائمری انتخابات میں کافی مندوبین حاصل کر کے اپنی صدارتی نامزدگی تقریباً یقینی بنا لی ہے۔

صدر اوباما نے ہلیری کلنٹن کو ذہین شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کے حریف برنی سینڈرز کی توانائی اور تصورات کو بھی سراہا۔

سینڈرز نے ابھی شکست قبول نہیں کی ہے اور وہ جمعرات کو صدر اوباما سے ملاقات کریں گے۔

صدر اوباما نے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ ان کا کام ووٹروں کو یہ یاد دہانی کروانا ہے کہ امریکی صدارت ایک سنجیدہ کام ہے نہ کہ کوئی ٹی وی شو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ ٹیلی ویژن ریئلٹی شوز کا حصہ رہے ہیں

بظاہر وہ رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو ٹی وی پر ریئلٹی شوز میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

اس سے پہلے ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار بننے کی خواہشمند ہلیری کلنٹن نے صدارتی انتخابات میں رپبلکن پارٹی کے ممکنہ امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو ’خطرناک حد تک بے ربط‘ شخصیت کہا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کے لیے غیر موزوں ہیں اور ان کا منتخب ہونا ’تاریخی غلطی‘ ہوگی۔

جبکہ امریکی ایوان کے سپیکر پال رائن کا کہنا تھا کہ وہ اختلافات کے باوجود صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کریں گے۔

پال رائن نے ایک کالم میں لکھا ’ہم میں اختلافات سے زیادہ مشترک باتیں ہیں۔‘

اسی بارے میں