سنگاپور میں سرکاری دفتروں میں انٹرنیٹ پر پابندی

سنگاپور میں اگلے سال سے سرکاری ملازمین کے دفتر کے کمپیوٹروں سے انٹر نیٹ کو کھولنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔

ایک سرکاری اخبار کے مطابق یہ اقدام انٹرٹیٹ کی سکیورٹی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خطرات اور ای میلز کے ذریعے سرکاری دستاویزات کے لیک ہو جانے کے امکان کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین پر اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے متعلق کسی معلومات کا ذکر اپنی ذاتی ای میلز میں کرنے پر بھی پابندی ہو گی۔

سنگاپور میں ان اطلاعات پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اقدام سنگاپور کی ’سمارٹ نیشن ٹیکنالوجی‘ کی مہم کے بھی منافی ہوگا۔

کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ حکومتی اقدام جس کا اطلاق سرکاری اساتذہ پر بھی ہوگا جن کا حساس نوعیت کی سرکاری معلومات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان پر یہ پابندی بالکل جائزہ نہیں ہے۔

اخبار کے مطابق اس پابندی کے بارے میں ایک حکمنانہ تمام سرکاری اداروں، ایجنسیوں، وزارتوں اور دفاتر کو بھجوا دیا گیا ہے۔

ایک ٹی چینل نے انفوکام ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آئی ڈی اے) کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ وہ سرکاری کمپیوٹر پر سائبر حملوں کا سدِ باب کرے گی اور سرکاری امور کی انجام دہی کا یہ ایک محفوظ اور قابل اعتماد ماحول پیدا کرے گی۔

آئی ڈی اے کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سنگاپورحکومت مستقل بنیادوں پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سکیورٹی کا جائزہ لیتی رہتی ہے تاکہ آئی ٹی نیٹ ورک کو زیادہ محفوظ بنایا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے ابتدا میں چند سرکاری ملازمین کے ورک سٹیشنوں یا کمپیوٹروں سے انٹرنیٹ تک رسائی کو علیحدہ کرنا شروع کر دیا ہے اور آئندہ ایک سال کے دوران ہم تبدریج باقی سرکاری کمپیوٹروں تک اس نظام کو وسعت دیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ بلاآخر ایک لاکھ سرکاری کمپیوٹر اس کے احاطے میں آ جائیں گے۔

سنگاپور میں سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کیا یہ حکومتی اقدام کسی لیک کے نتیجے میں اٹھایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ فیصلہ کسی سرکاری دستاویز کے لیک ہو جانے کے بعد کیا گیا ہے۔

بہت سے دوسرے ملکوں کی طرح سنگاپور میں بھی ماضی میں سائبر حملے ہو چکے ہیں، جن میں سنہ 2013 میں وزیر اعظم کی سرکاری ویب سائٹ کو ’انونیمس‘ نامی گروپ نے ہیک کر لیا تھا۔

سرکاری ملازمین کو ای میلز کرنے کی سہولت حاصل ہو گی لیکن اس کے لیے ان کو اپنے ذاتی فون یا دیگر آلات استمعال کرنا ہوں گے یا اس کے لیے مخصوص کمپیوٹر دستیاب کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں