بل گیٹس کا غربت کم کرنے کا ’چکن‘ منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ

مائیکروسافٹ کے مالک اور انسان دوست ارب پتی بل گیٹس نے افریقہ میں غریب خاندانوں کو مدد دینے کے لیے ایک لاکھ مرغیاں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ارب پتی بل گیٹس نے کہا ہے کہ مرغیوں کو پالنے اور بیچنے سے غربت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بل گیٹس نے سب صحارا افریقی ممالک میں غریب خاندانوں میں ایک لاکھ مرغیاں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سب صحارا افریقی ممالک میں 41 فیصد افراد خط غربت سے نیچے رہتے ہیں۔

بل گیٹس کا کہنا ہے کہ ایک کاشت کار پانچ مرغیاں پال کر سالانہ 1000 ڈالر کما سکتا ہے۔ جن خاندانوں کی سالانہ آمدن 700 ڈالر سے کم ہو انھیں خط غربت سے نیچے تصور کیا جاتا ہے۔

بل گیٹس نے کہا ہے کہ وہ سب صحارا کے 30 فیصد دیہی خاندانوں کو اچھی نسل کی ایسی مرغیاں مہیا کرنا چاہتے ہیں جنھیں بیماریوں سے بچاؤ کےٹیکے لگے ہوئے ہوں گے۔

بی بی سی افریقہ کے بزنس ایڈیٹر میتھیو ڈیوس کا کہنا ہے بل گیٹ کا غریبوں کی مدد کا جذبہ قابل قدر ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اس کے ذریعےغریب خاندانوں کوغربت سےنکالنےمیں کامیاب ہو پائیں گے؟

بزنس ایڈیٹر میتھیو ڈیوس کا کہنا ہے کہ جب مرغیوں کی تعداد بڑھے گی تو ان کے لیے خوراک کہاں سے آئے گی اور کیا مرغیوں کے لیے خوراک پیدا کرنے کے لیے قابل کاشت زمین کو چکن فیڈ بنانے کے لیے استعمال کرنا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اس کے علاوہ مارکیٹ میں اضافی چکن کی فراہمی سے پولٹری کی قیمتوں میں کمی ہو گی۔

امریکہ، یورپی یونین اور برازیل پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ افریقی ممالک میں سستے داموں پولٹری بیچ کر مقامی کاشتکاروں کو بے روزگار کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے بزنس ایڈیٹر کے مطابق ان تمام خدشات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ بل گیٹس کے منصوبے پر عمل نہ کیا جائے۔ اگر اس منصوبے کی کامیابی کے امکانات کم بھی ہوں تب بھی اسے موقع ضرور دیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں