تراسی ہزار فلسطینوں کے اجازت نامے منسوخ

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے تل ابیب کے ایک مرکزی شاپنگ سینٹر میں فلسطینی حملہ آوروں کی فائرنگ میں چار افراد کی ہلاکت کے بعد 83,000 فلسطینیوں کے شہر میں داخل ہونے کے اجازت ناموں کو معطل کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق غربِ اردن سے تعلق رکھنے والے دو فلسطینیوں نے سارونا مارکیٹ میں فائرنگ کر کے چار افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

٭ تل ابیب میں فلسطینی حملہ آوروں کی فائرنگ سے چار ہلاک

٭ تل ابیب میں فائرنگ، دو افراد ہلاک سات زخمی

پولیس کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق فلسطین کے گاؤں یاتا سے تھا اور وہ اب پولیس کی تحویل میں ہیں۔

اسلامی گروپ حماس نے اس حملے کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’بہادرانہ حملہ‘ قرار دیا تاہم اس نے یہ نہیں کہا کہ اس حملے کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔

فسلطین کے صدر دفتر نے ایک بیان میں تل ابیب حملے کا براہِ راست ذکر کیے بغیر کہا ’ ہم عام شہریوں کو نشانہ بنانے والی تمام کارروائیوں کو مسترد کرتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ اسرائیلی پولیس کے مطابق تل ابیب کے ایک مرکزی شاپنگ سینٹر میں فلسطینی حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور 16 دیگر افراد زخمی ہوگئے تھے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہونے بدھ کی رات ہونے والے حملے کے بعد سارونا کمپلیس کا دورہ کیا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اس حملے کو ’قتل اور دہشت گردی‘ قرار دیا۔

اس حملے کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اجازت ناموں کی معطلی کے بعد غربِ اردن اور حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے وہ فلسطینی متاثر ہوں گے جو رمضان میں یروشلم میں عبادت کرنا چاہتے تھے، اسرائیل میں اپنے رشتے داروں سے ملاقات کرنا چاہتے تھے یا پھر باہر جانے کے لیے تل ابیب کا ایئر پورٹ استعمال کرنا چاہتے تھے۔

حکام کے مطابق اس معطلی سے ایسے فلسطینی متاثر نہیں ہوں گے جن کے پاس کام کرنے کا اجازت نامہ ہو گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے 204 رشتہ داروں کے شہر میں داخل ہونے کے اجازت ناموں کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں