محمد علی آبائی علاقے میں سپردِ خاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امام زید شاکر کا کہنا تھا کہ محمد علی مسلم عقیدے کے مطابق آخری رسومات چاہتے تھے

باکسر محمد علی کو امریکی ریاست کینٹکی میں واقع ان کے آبائی شہر لوئی ول میں دفن کر دیا گیا ہے۔

دسیوں ہزار افراد انھیں آخری الوداع کہنے کے لیے شہر کی شاہراؤں پر موجود تھے جبکہ محمد علی کی تدفین کے بعد ان کی یاد میں ایک بین المذاہب تقریب بھی منعقد کی گئی۔

74 سالہ سابق باکسنگ چیمپیئن گذشتہ جمعے کو انتقال کر گئے تھے۔

’دنیا نے چیمپیئن میں\ نے اپنا دوست کھویا‘’لوگ محمد علی کی طرف کھنچے چلے آتے تھے‘

محمد علی کے خاندان کے ترجمان کے مطابق انھوں نے اپنی موت سے کئی سال قبل اپنے دو روزہ جنازے کی تقریب کی تفصیلات خود ترتیب دی تھیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان اور اردن کے شاہ عبداللہ بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

باکسر محمد علی یاد میں منعقد کی جانے والی بین المذاہب دعائیہ تقریب میں ان کے اہلِ خانہ اور عزیزو اقارب اور دوست احباب سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اس تقریب میں 14 ہزار افراد شریک ہوئے۔ امریکی صدر اوباما نے دیگر مصروفیات کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔ تاہم ان کا پیغام پڑھا کر سنایا گیا۔

اس موقع پر محمد علی کو خراج تحسین پیش کیا گیا ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور انسانیت کے لیے ان کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔

اس تقریب کا آغاز امام حمزہ عبدالمالک کی آواز میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کریم کی تلاوت سے ہوا۔

مقامی منسٹر کیون کوسبے نے محمد علی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کہ جیمز براون کہتے کہ میں سیاہ فام ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے محمد علی نے کہہ دیا کہ میں سیاہ فام ہوں اور میں خوبصورت ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محمد علی کی اہلیہ

محمد رعلی کی اہلیہ اور بیٹیوں نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ ان کی اہلیہ لونی نے کہا کہ ان کا دین، عقیدہ اور نام ان کے لیے اہم تھا چاہے اس کی جو بھی قیمت ہو۔

امریکی صدر بل کلنٹن نے بھی خطاب کیا اور محمد علی کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے ’عقیدے کا ایک آزاد شخص‘۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں محمد علی نے بہت کم عمری میں سوچ لیا تھا کہ اپنی زندگی کی کہانی وہ خود لکھیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

صدر اوباما کی جانب سے ارسال کیا گیا خط ولیری جیرٹ جو کہ ذاتی طور پر محمد علی کو جانتی تھی نے پڑھ کر سنایا۔

اس خط میں لکھا گیا تھا کہ ’وہ اپنے دور میں آنے والوں میں سے سب سے بڑے تھے، بلند اور متاثر کن تھے۔محمد علی امریکہ، محمد علی ہمیشہ امریکہ رہیں گے۔ کیا انسان تھے‘

دعائیہ تقریب کے آغاز سے قبل تین بار ہیوی ویٹ چیمپیئن رہنے والے محمد علی کے جنازے کو ان اہم مقامات سے گزارا گیا جہاں انھوں نے اپنی زندگی گزاری۔ ان رسومات میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ان آخری رسومات میں دسیوں ہزار افراد سڑکوں پر جمع ہوئےاور وہ علی علی کے نعرے لگا رہے تھے اور پھول برسا رہے تھے۔

محمد علی کے جنازے کو ایک جلوس کی شکل میں مقامی وقت کے مطابق نو بجے ان کے آبائی گھر، علی سینٹر، سینٹر فار ایفریکن امریکن ہیریٹج اور محمد علی بولیوارڈ پر لایا گیا۔

تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے اس جلوس کا اختتام کیو ہل قبرستان میں ہوا جہاں محمد علی کو دفن کیا گیا۔

اس سے قبل گذشتہ روز محمد علی کے مداحین اور دیگر افراد نے ان کے آبائی شہر لوئی ول میں ان کی نمازِ جنازہ اور دعائیہ تقریب میں شرکت کی تھی۔

جنازہ پڑھانے والے امام زید شاکر کا کہنا تھا کہ محمد علی مسلمان عقیدے کے مطابق آخری رسومات چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ’یہ ایک سیکھنے کا لمحہ‘ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اس تقریب میں شریک اور ٹی وی پر دیکھنے والے امریکی مسلمانوں کا کہنا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ عوامی جنازے سے امریکیوں کو اسلام اور اس کے عقائد سے واقفیت ہو گی۔

سنہ 1964 میں محمد علی نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام کیسیئس کلے سے تبدیل کر کے محمد علی رکھ لیا تھا۔

اس تقریب میں شرکت کے لیے 25 سالہ عبدالرافع شکاگو سے آئے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ محمد علی کو مسلمانوں کے سفیر کے طور پر دیکھتے ہیں۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشن کے داؤد ولید کا کہنا تھا کہ اس سیاسی فضا میں جہاں اسلاموفوبیا ہے یہ جنازہ اس تاثر کو رد کرسکتا ہے کہ اچھا مسلمان ہونا اور اچھا امریکی ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔

دعا کے بعد ڈاکٹر شرمن جیکسن نے خطاب میں محمد علی کے بارے میں بات کرتے ہوئے باکسنگ کی ایک اصطلاح استعمال کی اور کہا کہ ‘کیا کوئی شخص مسلمان اور امریکی ہوسکتا ہے، بلاشبہ علی نے اس سوال کو ناک آؤٹ کر دیا ہے۔‘

اسی بارے میں