قزاقستان: سکیورٹی فورسز کے حملے میں پانچ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جنگجوؤں نے اسلحے کی جن دکانوں میں عام شہریوں کو ہلاک کیا ان کے سامنے لوگ پھول رکھ رہے ہیں

قزاقستان میں سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کو شمال مغربی شہر آقتوبی میں ہونے والے حملے میں مبینہ طور پر ملوث پانچ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

نیشنل سکیورٹی کمیٹی (کے این بی) کا کہنا ہے کہ سپیشل فورسز نے شہر میں ایک اپارٹمنٹ پر چھاپہ مار کر چاروں مشتبہ افراد کو ہلاک کر دیا۔

کے این بی کے مطابق ایک اور شخص کو سڑک پر اس وقت گولی مار دی گئی جب اس نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کر دی۔

مشتبہ جنگجوؤں نے ایک فوجی اڈے پر تین فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بعد اتوار کو تین عام شہریوں کو بھی اسلحے کی دو دکانوں میں ہلاک کر دیا تھا۔

کے این بی کے بیان کے مطابق جمعے کو مارے جانے والے چھاپے میں سکیورٹی فورسز کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

کے این بھی کے مطابق اس سے قبل جمعے کو جب مشتبہ افراد نے ہتھیار پھینکنے سے انکار کر دیا تو پولیس اور ان کے درمیان خاصی دیر تک گولیوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قزاقستان کے صدر کا کہنا ہے کہ حملہ آور بیرون ملک سے ہدایات لے کر آئے تھے

ابھی تک قزاقستانی حکام نے آقتوبی حملے میں ملوث تنظیم کی شناخت نہیں کی۔

قزاقستان کے صدرر نورسلطان نظربایف کہتے ہیں کہ حملہ آور بیرون ملک سے احکامات لے رہے تھے لیکن انھوں نے کسی ملک یا تنظیم کا نام نہیں لیا۔

سوشل میڈیا میں دکھائی جانے والی ویڈیو آقتوبی کی گلیوں میں مسلح افراد کا ایک جتھا جاتا ہوا دکھایا جا رہا ہے جو بظاہر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

قزاقستان میں اسلامی شدت پسند شاذو نادر ہی حملے کرتے ہیں۔ تاہم روسی سرحد کے قریب واقع آقتوبی میں سنہ 2011 میں قزاقستان کا پہلا خود کش حملہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں