شام: سیدہ زینب کےمزار کے قریب دھماکے، ہلاکتوں میں اضافہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع پیغمبر اسلام کی نواسی سیدہ زینب کے مزار کے قریب ہونے والے بم حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 13عام شہری شامل ہیں جبکہ 30 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تنظیم کے مطابق ہلاکتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

٭ سیدہ زینب کے مزار کے قریب دھماکہ، 71 افراد ہلاک

اطلاعات کے مطابق سیدہ زینب کے مزار کے قریب ایک خود کش بم حملے کے ساتھ کار بم دھماکہ بھی ہوا ہے۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے ’سانا‘ نے ان حملوں میں ہلاک ہونےوالوں کی تعداد 12 اور زخمیوں کی تعداد 55 بتائی تھی۔ خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ حملے اس کے تین جنگجوؤں نے کیے۔ ان میں سے دو نے خودکش بمبار تھے جبکہ ایک دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی لے کر داخل ہوا۔

خبر رساں ادارے ’سانا‘ کے مطابق سنیچر کو پہلا دھماکہ ایک خود کش بمبار نے کیا جو اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ایک کار بم کا نتیجہ تھا جو مزار سے کچھ فاصلے پر ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا

زخمیوں میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی شامل ہے جن میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ یہ مزار شیعہ مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہاں پر پیغمبر اسلام کی نواسی کی قبر ہے جہاں ہر سال بڑی تعداد میں شیعہ مسلمان آتے ہیں۔

سیدہ زینب کے مزار کو پہلے بھی شدت پسند گرہوں کی جانب سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس برس کے اوائل میں مزار کے قریب ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں 150 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ مزار شیعہ مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے

دوسری جانب خطے بھر سے شعیہ جنگجوؤں کی شام آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ان جنگجوؤں کا موقف ہے کہ وہ اس مزار کو خانہ جنگی سے بچانے کے لیے شام آ رہے ہیں۔

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا بھی یہی موقف ہے کہ وہ مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے شام کی حکومتی افواج کا ساتھ دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں