اورلینڈو حملہ: کب کیا ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ایک حملہ آور نے ہم جنس پرستوں کے ایک کلب میں فائرنگ کر کے کم از کم 50 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی تین گھنٹے تک جاری رہی۔ اس کے بارے ہم کیا جانتے ہیں:

کب کیا ہوا؟

پولیس کے سربراہ جان مینا نے کہا کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے شروع ہوا۔

پلس اورلینڈو کے سب سے بڑے نائٹ کلبوں میں سے ایک ہے۔ اس میں اس رات لاطینوز کے موضوع پر مبنی ایک تقریب منعقد ہو رہی تھی کہ اسی دوران حملہ آور نے فائرنگ شروع کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس کے تھوڑی ہی دیر بعد کلب کے فیس بک پیج پر میسج آیا: ’ہر کوئی پلس سے نکل جائے اور دوڑتا رہے۔‘

پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کے جسم سے ایک بم نما چیز بھی بندھی ہوئی تھی۔ اس نے کلب میں کام کرنے والے پولیس اہلکار کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایسا کلب کے اندر ہوا یا باہر۔

حملہ آور نے کلب میں لوگوں کو یرغمال بنا لیا جس کے بعد پانج بجے پولیس نے عمارت پر دھاوا بول دیا۔

اسی دوران ایک دھماکہ بھی ہوا، جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد حملہ آور کی توجہ بٹانا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

پولیس نے حملہ آور کو ہلاک کر دیا لیکن اس سے پہلے 50 سے زائد لوگ مارے جا چکے تھے۔ یہ امریکہ کی تاریخ کی بدترین فائرنگ کا واقعہ ہے۔

مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیوں کہ کم از کم 53 زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

حملہ آور کون تھا؟

حکام نے باضابطہ طور پر حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی لیکن بعض پولیس افسروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی میڈیا کو بتایا کہ اس کی عمر 29 سال تھی۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اس کا نام عمر متین ہے۔ وہ فورٹ پیئرس کا رہنے والا تھا جو اورلینڈو کے جنوب میں دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

ایف بی آئی کے ایک ترجمان نے کہا کہ بظاہر حملہ آور شدت پسند اسلامی رجحان رکھتا تھا، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا یہ مقامی یا بین الاقوامی دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

پولیس نے بتایا کہ اس کے پاس ایک رائفل، ایک پستول اور کسی قسم کا مشکوک بم نما آلہ تھا۔

عینی شاہدوں کے بیان

کلب میں حملے کے وقت 320 افراد موجود تھے۔ ان میں سے بعض نے اپنے تاثرات بیان کیے ہیں۔ کرسٹوفر ہینسن نے سی این این کو بتایا: ’ہر طرف لوگ بھاگتے اور چیختے نظر آ رہے تھے، پارکنگ لاٹ میں لاشیں پڑی تھی جن پر نشان لگائے جا رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ کوئی ڈراؤنی فلم ہے۔‘

جان ایلمو نے کہا کہ ایک آدمی اسلحہ تھامے کمرے میں داخل ہوا۔ ’میں نے 20، 40، 50 فائر سنے۔ موسیقی رک گئی۔‘

سیاسی ردعمل کیا آیا ہے؟

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ صدر کو اس واقعے کے بارے میں بریفنگ دے دی گئی ہے۔

’صدر نے ایف بی آئی سے کہا ہے کہ انھیں باقاعدگی سے تازہ تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

رپبلکن پارٹی کی جانب سے متوقع صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی: ’اورلینڈو میں شوٹنگ کا برا واقعہ۔ پولیس ممکنہ دہشت گردی پر تفتیش کر رہی ہے۔ بہت سے لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

اسی بارے میں