دبئی میں کار ریسرز کے خلاف کارروائی، 81 گاڑیاں ضبط

Image caption گاڑیوں کے مالکان نے جرمانہ ادا نہیں کیا تو گاڑیوں کو نیلام کر دیا جائے گا( فائل فوٹو)

دبئی میں پولیس کے مطابق کار ریسرز کے بارے میں معلوم ہوا ہے جو متحدہ عرب امارات کی سڑکوں کو غیر قانونی کار ریسنگ کے لیے استعمال کرتے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق کار ریسنگ میں گاڑی کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹے تک پہنچ جاتی تھی۔

تاہم پولیس نے ان کار ریسرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 81 گاڑیوں کو ضبط کیا ہے۔

٭دبئی میں محتاط ڈرائیوروں کے لیے نئی کاروں کا تحفہ

پولیس حکام کے مطابق ان گاڑیوں کو ریس میں استعمال کیا جا رہا تھا اور شناخت سے بچنے کے لیے ان گاڑیوں پر رجسٹریشن پلیٹ نہیں تھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق ڈرائیورز کو 27 ہزار ڈالر تک جرمانہ کیا جائے گا جبکہ گاڑیوں کے مالکان کو 50 ہزار درہم جرمانہ ہو گا۔

دبئی پولیس کے سربراہ میجر جنرل خمیص ال مینحا کے مطابق’ٹریفک پولیس نے لاپرواہی سے گاڑی چلانے والے متعدد ڈرائیورز کی نشاندہی کرتے ہوئے 81 گاڑیوں کو قبضے میں لے لیا ہے۔‘

تاہم پولیس سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان گاڑیوں کو کب قبضے میں لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دبئی میں پولیس اہلکار بھی مہنگی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں

’مالکان گاڑیوں کو غیر قانونی ریس کے لیے استعمال کر رہے تھے یا اس کی تیاری کر رہے تھے جبکہ دیگر گاڑیوں کو خطرناک ڈرائیونگ اور سڑکوں پر دوسروں کو خطرے میں ڈالنے پر پکڑا گیا۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ بعض گاڑیوں کے ڈرائیورز نے پولیس سے بچنے کے لیے 196 میل فی گھنٹہ تک گاڑی چلائی۔

اخبار خلیج ٹائمز کے مطابق اگر مالکان نے تین ماہ کے اندر جرمانہ ادا نہیں کیا تو پولیس کو گاڑیاں نیلام کرنے کا حق حاصل ہو گا۔

متحدہ عرب امارات کے دولتِ مند شہریوں کو مہنگی گاڑیاں رکھنے کا شوق ہے اور جہاں تک کہ پولیس کے استعمال میں پورشے اور ایسٹن مارٹن جیسی مہنگی گاڑیاں ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دبئی کے ٹرانسپورٹ حکام نے گذشتہ برس کہا تھا کہ گاڑیوں کی تعداد 8 برس میں دگنی ہو گئی ہے اور یہ تعداد لندن اور نیویارک میں فی کس گاڑی کے حساب سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں