قطر میں ڈچ خاتون کو سزا، ملک بدری کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دوحہ کے بعض ہوٹلوں میں شراب نوشی ممنوع نہیں ہے

قطر کی عدالت نے ایک ڈچ خاتون کو زنا کے جرم میں سزا سنائی ہے جبکہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ریپ کیا گیا ہے۔

22 سالہ ڈچ خاتون کو سزا کے علاوہ 824 ڈالر کا جرمانے کیا گیا ہے اور ان کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔ تاہم انھیں سزا نہیں کاٹنی ہو گی اور صرف جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

تعطیلات پر دوحا جانے والی ڈچ خاتون کے وکیل کے مطابق ان کی 22 سال موکل کو دوحا کے ایک ہوٹل میں نشہ آور چیز دی گئی تھی اور جب وہ بیدار ہوئیں تو کسی انجانے فلیٹ میں تھیں پھر انھیں یہ احساس ہوا کہ وہ جنسی زیادتی کا شکار ہوئي ہیں۔

انھوں نے جس شخص پر ریپ کا الزام لگایا تھا اس شخص کا کہنا تھا کہ یہ باہمی رضامندی تھی۔ تاہم عدالت نے ان کو غیر ازدواجی سیکس پر 100 کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔

اس شخص کو مزید 40 کوڑے شراب پینے کے جرم میں مارے جائیں گے۔

مارچ میں خاتون کو غیر مرد کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

قطر میں ڈنمارک کے سفیر نے سماعت کے بعد کہا کہ 22 سالہ ڈچ خاتون چند روز میں ملک چھوڑ جائیں گی۔

انھوں نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’ہم بھرپور کوشش کریں گے کہ خاتون کو جلد از جلد اس ملک روانہ کر دیں جہاں وہ جانا چاہتی ہیں۔‘

عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کو جرمانہ ادا کرنے کے بعد ہی ملک بدر کیا جائے گا۔

اس سے قبل خاتون کے وکیل برائن لوکولو نے ڈچ براڈکاسٹر این او ایس ریڈو1 کو بتایا کہ خاتون دوحا کے ہوٹل میں رقص کرنے گئی تھیں جہاں شراب ممنوع نہیں ہے۔ لیکن ’جب وہ ایک چسکی لینے کے بعد اپنی میز پر آئیں تو ان کی طبیعت خراب ہونے لگی اور انھیں احساس ہوگیا کہ انھیں نشہ آور دوا دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption بیرونی ممالک کے باشندوں کو شراب کا پرمٹ ملتا ہے

’اس کے بعد انھیں کچھ یاد نہیں۔ اس کے بعد ان کی یاداشت ایک انجانے اپارٹمنٹ کی ہے جہاں انھیں یہ خوفناک احساس ہوا کہ ان کا ریپ ہوا ہے۔‘

قطر میں عوامی مقامات پر شراب پینا جرم ہے لیکن بعض ہوٹلوں میں شراب پینے کی اجازت ہے اور باہر سے آنے والے افراد کو شراب خریدنے کا پرمٹ ملتا ہے۔

سنہ 2013 میں قطر کے پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات میں ناروے کی ایک خاتون کو جھوٹی گواہی دینے اور غیر مرد کے ساتھ سیکس کرنے اور شراب پینے کے لیے 16 ماہ کی جیل ہوئی تھی۔

پولیس کو ریپ کی اطلاع دینے کے بعد اسے یہ سزا ملی تھی لیکن بعد میں اسے معاف کردیا گیا اور ناروے واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔

اسی بارے میں