نہیں جانتا تھا کہ عمر کے دل میں اتنی نفرت تھی: والد

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر حملہ کرنے والے امریکی شہری کے افغانی نژاد والد نے کہا ہے کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے بیٹے کا ’دل نفرت سے بھرا ہوا تھا۔‘

29 سالہ عمر متین نے سنیچر کی شب پلس نامی نائٹ کلب میں گھس پر فائرنگ کی تھی اور مقامی پولیس کے مطابق اس حملے میں 50 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔

٭ اورلینڈو میں ہلاکتوں پر سوگ اور دعائیہ تقریبات: تصاویر

٭ عمر متین کون تھا؟

٭ نائٹ کلب حملے میں ہلاکتیں 50، اورلینڈو میں ایمرجنسی نافذ

٭ اورلینڈو حملہ: کب کیا ہوا؟

یہ امریکہ کی حالیہ تاریخ میں فائرنگ سے شہری ہلاکتوں کا بدترین واقعہ ہے۔

پولیس نے عمر متین کو جائے وقوع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

صدیق متین نے کہا ہے کہ وہ تاحال سمجھ نہیں پائے کہ ان کے بیٹے نے یہ حرکت کیوں کی۔

اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ ان کا بیٹا میامی میں دو ہم جنس پرست افراد کو ایک دوسرے کو بوسہ دیتے دیکھ کر مشتعل ہوگیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صدیق متین نے انٹرنیٹ پر شائع کیے جانے والے ایک بیان میں جس کا مخاطب ان کے آبائی ملک افغانستان کے عوام ہیں، کہا ہے کہ ان کا بیٹا ایک ’اچھا لڑکا تھا‘۔

بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں جانتا کہ اس (واقعے) کی وجہ کیا بنی۔ میں کبھی یہ نہیں جان سکا کہ اس کے دل میں اتنی نفرت ہے۔ میں صدمے میں ہوں اور یہ بات امریکی عوام کو بتا چکا ہوں۔‘

اس سے قبل اتوار کو صدیق متین نے کہا تھا کہ ’ہم اس سارے واقعے پر معذرت خواہ ہیں۔ ہمیں باقی ملک کی طرح شدید دھچکا لگا ہے۔‘

امریکی چینل این بی سی کے مطابق عمر متین نے حملہ کرنے سے قبل پولیس ایمرجنسی نمبر پر کال کر کے بتایا تھا کہ ان کا تعلق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے ہے جبکہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی کے مطابق انھوں نے دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا اعلان کر رکھا تھا۔

واقعے کے بعد دولت اسلامیہ سے منسلک نیوز ایجنسی عماق پر تنظیم نے بیان میں کہا کہ ’یہ حملہ دولت اسلامیہ کے ایک جنگجو نے کیا ہے۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے بھی فائرنگ کے اس واقعے کو درجنوں معصوم لوگوں کا خوفناک قتل عام‘ قرار دیا ہے۔

صدر اوباما نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ دہشت گرد اور نفرت انگیز عمل ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ امریکی اس تکلیف اور ظلم میں متحد ہیں اور اپنے لوگوں کا دفاع کرنے کا پختہ ارادہ کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صدر اوباما نے جمعرات کی شام تک تمام سرکاری عمارتوں پر لگے پرچم سرنگوں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

اس کے علاوہ ملک بھر میں پیر کو مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے اس واقعے پر چند لمحے کی خاموشی اختیار کی جائے گی جبکہ اورلینڈو کے میئر اس حملے کے بعد شہر میں پہلے ہی ایمرجنسی نافذ کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ OMAR MATEEN
Image caption پولیس نے عمر متین کو جائے وقوع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا

اورلینڈو حملے کی تفصیلات

پولیس کے سربراہ جان مینا نے کہا کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے شروع ہوا۔

پلس اورلینڈو کے سب سے بڑے نائٹ کلبوں میں سے ایک ہے۔ اس میں اس رات لاطینوز کے موضوع پر مبنی ایک تقریب منعقد ہو رہی تھی کہ اسی دوران حملہ آور نے فائرنگ شروع کر دی۔

پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کے جسم سے ایک بم نما چیز بھی بندھی ہوئی تھی۔

اس نے کلب میں کام کرنے والے پولیس اہلکار کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایسا کلب کے اندر ہوا یا باہر۔

حملہ آور نے کلب میں لوگوں کو یرغمال بنا لیا جس کے بعد پانج بجے پولیس نے عمارت پر دھاوا بول دیا۔

مذمتی بیانات

امریکی تاریخ کے سب سے خطرناک فائرنگ کے اس وقعے پر امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے شدید مذمتی بیانات آ رہے ہیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات کی امیدوار ہیلری کلنٹن نے فائرنگ کے اس واقعے کو ’دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔‘

ہم جنس پرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آپ یہ جان لیں کے پورے ملک میں آپ کے حمایتی ہیں اور ان میں سے ایک میں بھی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی صدر نے کہا کہ امریکی عوام اس تکلیف اور ظلم کے خلاف متحد ہیں اور اپنے لوگوں کا دفاع کرنے کا پختہ ارادہ کرتے ہیں

ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار برنی سینڈرز کا کہنا تھا کہ ’تمام امریکی اورلینڈو میں ہونے والے اس ظالمانہ حملے سے خوفزدہ اور غمگین ہیں۔‘

ای میل کے ذریعے اپنے بیان میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر اور ہیلری کلنٹن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’باراک اوباما کو صدر کا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے اور ہیلری کلنٹن کو صدارتی دوڑ سے باہر ہوجانا چاہیے۔‘

اس واقعے پر فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا: ’یہ خوفناک قتل عام ہے۔ تمام امریکیوں کو فرانس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔‘

پوپ فرانسس نے اس قاتلانہ حملے کو ’حماقت‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

اورلینڈو میں ہونے والے فائرنگ کے اس واقعے پر کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے بھی مذمتی بیان سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے کے بعد شدید صدمے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اورلینڈو اور ہم جنس پرست برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم امریکہ میں اپنے دوستوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

اسی بارے میں