امریکہ میں 25 برس میں فائرنگ کے مہلک ترین حملے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اورلینڈو کے حملے کو گذشتہ 25 سال میں فائرنگ کے مہلک ترین حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں اتوار کی شب ہونے والے حملے کو گذشتہ 25 سال کے دوران امریکہ میں ہونے والے فائرنگ کے مہلک ترین حملے کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب پر ہونے والے حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 53 زخمی ہوئے ہیں۔

ایک نظر امریکہ میں گذشتہ 25 برسوں میں ہونے والے حملے پر ڈالتے ہیں۔

٭ سنہ 2016 میں امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں عمر متین نے ہم جنس پرستوں کے ایک کلب میں فائرنگ کی جس میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

٭ سنہ 2007 میں ورجینیا ٹیک یونیورسٹی میں ایک طالب علم سیونگ-ہوئی چو نے اپنی جان لینے سے قبل طلبہ پر فائرنگ کی تھی جس میں 32 افراد ہلاک ہوئے۔

٭ سنہ 2012 میں کنیکٹیکٹ کے علاقے سینڈی ہک میں ایڈم لیزا نے خود کو ہلاک کرنے سے قبل چھ سے سات سال کی عمر کے 20 بچوں سمیت چھ بالغوں کو قتل کر دیا تھا۔ اس واقعہ میں 27 جانیں گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ San Bernardino County Sheriff
Image caption سین برنارڈینو کے حملہ آوروں کے اسلحے

٭ سنہ 1991 میں جارج ہینارڈ نے خود کو قتل کرنے اور فائرنگ سے قبل ٹیکسس کے علاقے كلين میں ایک کیفے پر گاڑی چڑھا دی تھی جس میں 23 افراد ہلاک ہو گئے۔

٭ سنہ 2015 میں سان برنارڈینو میں شوہر بیوی کے ایک جوڑے سید رضوان فاروق اور تاشفين ملک نے لوگوں پر فائرنگ کی تھی جس میں 14 افراد ہلاک ہو گئے اور بعد میں دونوں پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

٭ سنہ 2009 میں ندال حسن ملک نے ٹیکسس کے فورٹ ہڈ میں فوجی کیمپ پر فائرنگ کی تھی جس میں 13 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔

٭ سنہ 2009 میں جیورلي وانگ نے خود کو ہلاک کرنے سے قبل نیویارک کے ایک پناہ گزین مرکز میں لوگوں پر فائرنگ کی۔ اس حملے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

٭ سنہ 1999 میں كلےبولڈ کے لٹل ٹن میں ایرک ہیرس اور ڈائلن كلےبولڈ نے کولمبین ہائی سکول میں اپنے ساتھی طالب علموں اور ایک استاد پر حملہ کیا تھا۔ اس واقعے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں