دولتِ اسلامیہ کمزور ہوئی ہے مگر ہاری نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ فرقہ وارانہ تقسیم اور اختلافات کا فائدہ اٹھاتی ہے

نام نہاد دولتِ اسلامیہ اس وقت شام، عراق اور لیبیا میں سخت دباؤ کا شکار ہے۔ یہ نہ صرف علاقے کھو رہی ہے بلکہ اس کے جنگجو بھی مارے جا رہے ہیں اور اسے سٹریٹیجک نقصان بھی اٹھانے پڑے ہیں۔ دولتِ اسلامیہ پسپا ہوئی ہے لیکن یہ ابھی ہاری نہیں ہے۔

دولتِ اسلامیہ عدم استحکام میں فروغ پاتی ہے اور خطے میں جاری حالات کی وجہ سے اس شکست دینے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

یقیناً اس کے مخالفین کی کامیابی میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافے کا دخل ہوتا ہے جو دولتِ اسلامیہ کے حق میں جاتا ہے۔

اس کی شکست لیبیا میں زیادہ واضح ہے جہاں دو بڑے ملیشیا نئی حکومت کے ساتھ مل کر دولتِ اسلامیہ کے گڑھ سرت میں دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

لیبیا میں دولتِ اسلامیہ حال ہی میں پھیلی ہے اور اس ملک کا قبائلی نظام نسبتاً مزاحمت کرنے والا ہے۔

وجہ کوئی بھی ہو دولتِ اسلامیہ کے مخالفین کافی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور سرت میں انھوں نے بندر گاہ کو محفوظ کر لیا ہے۔

امریکہ کا اندازہ ہے کہ لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے کم سے کم پانچ ہزار جنگجو ہیں۔ اسے زیادہ تر دولتِ اسلامیہ کی قیادت کی ہجرت کے طور پر دیکھ رہیں ہے۔ شام میں دباؤ بڑھنے کے بعد کئی نے اپنے خاندانوں کو یہاں فرار کروا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Bangla
Image caption امریکہ کا اندازہ ہے کہ لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے کم سے کم پانچ ہزار جنگجو ہیں

بتایا گیا ہے کہ مغربی خصوصی فورسز بعض ملیشیا کی مدد کر رہے ہیں لیکن اس جنگ کا زیادہ تر بوجھ خود لیبیا کے لوگوں پر ہے۔

یہ لڑائی شمالی شام میں بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کی جا رہی ہے۔ امریکہ کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز نے منبج کے قصبے میں دولتِ اسلامیہ کے لیے رسد بھی منقطع کر دی ہے۔

یہ قصبہ شام اور ترکی کی سرحد سے 40 کلو میٹر دور ہے اور یہ دولتِ اسلامیہ اور اس جنگجوؤں کے شام میں داخلے کے لیے نہایت اہم مقام ہے۔ اس پر قبضے سے دولتِ اسلامیہ کا رقہ کے لیے ترکی سے آنے والا سپلائی کا آخری راستہ منقطع ہو گیا ہے۔

دوسری جانب شمالی عراق کے علاقے موصل اور رقہ کے درمیان بھی اسی طرح رابطہ منقطع کیا گیا ہے۔ شامی حکومت نے اپنی اور روس کی فضائی فوج کی مدد سے حلب اور اس کے نواح میں تازہ حملے کیے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ امریکہ اور مغرب کے حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجو ، روسی حمایت یافتہ شامی فوج کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس حوالے سے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کوئی عملی تعاون ہے

لیکن اس حوالے سے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کوئی عملی تعاون ہے۔

عراق میں امریکی سکیورٹی فورسز سے تربیت یافتہ سکیورٹی اہلکار کئی شیعہ ملیشیا کے تعاون سے محصور فلوجہ میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔ گو کہ ایک راستہ شہریوں کے لیے کھلا ہے لیکن اب بھی خدشہ ہے کہ یہاں شہری پھنسے ہوئے ہیں۔

امریکی ماہرین نے کے خیال میں شاید عراقی فورسز موصل میں زیادہ اہداف حاصل کرنے کی اہل نہ ہوں۔ موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے اور وہاں دولتِ اسلامیہ کا صدر دفتر ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ عراقی فورسز پہلے ہی دباؤ میں ہے اور اس کے پاس کم سہولیات ہیں۔ بڑی کارروائیوں کے لیے اسے امریکی کی جانب سے اضافی مدد کی ضرورت ہوگی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دولتِ اسلامیہ بڑے نقصانات کے بعد اس وقت دفاعی حالت میں ہے خاص طور پر عراق میں رمادی اور شام میں پیلمائرہ کے علاقے کھونے کے بعد۔ اس سب کے باوجود دولتِ اسلامیہ کئی طرح سے ردِ عمل ظاہر کر رہی ہے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ میں اب بھی دم ہے جس کا وہ فائدہ اٹھاسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراق کے دارالحکومت بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ میں اب بھی دم ہے جس کا وہ فائدہ اٹھاسکتی ہے

دولتِ اسلامیہ فرقہ وارانہ تقسیم اور اختلافات کا فائدہ اٹھاتی ہے۔

لیبیا سابق حکمرن معمر قذافی کے زوال اور اندورنی لڑائیوں کے بعد اب سے بمشکل سنبھل رہا ہے۔

شام بعض علاقوں کے علاوہ مختلف ملیشیاکے ساتھ نمٹنے میں ناکام رہا ہے اور ان کا رویہ بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کے لیے جارحانہ ہے۔

اور عراق میں حکومت ناکام رہی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس نے فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے اور وہ انتظام قائم کرنے کی کوشش ہی بہت کم کی جس کی ملک کو اشد ضرورت تھی۔

ایسے میں جب مغربی رہنما نقشوں پر دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں اس تنظیم کے پنپنے کی وجوہات اب بھی موجود ہیں۔

اس سے دولتِ اسلامیہ کی سٹریٹیجک شکست نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے نظریے کی شکست ہوتی ہے اور یہی چیز دوسرے براعظموں میں افراد اور گروہوں کو متاثر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

اسی بارے میں