اورلینڈو کے ہلاک شدگان کی یاد میں دعائیہ تقریبات

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ سمیت دنیا کے مختلف شہروں میں اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دعائیہ تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما بھی منگل کو اورلینڈو جا رہے ہیں جہاں وہ ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

اورلینڈو جانے سے پہلے صدر اوباما نے کہا ہے کہ نائٹ کلب پر حملہ کرنے والے شخص اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان براہِ راست روابط کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔صدر اوباما نے کہا کہ حملے کی تحقیقات ایک دہشت گرد کارروائی کے طور پر کی جا رہی ہیں۔

منگل کو امریکی شہر اورلینڈو کے علاوہ فرانس، آسٹریلیا، برطانیہ اور جرمنی سمیت مختلف ممالک میں دعائیہ تقریبات منعقد ہو رہی ہیں اور اس موقعے پر شمعیں روشن کی جا رہی ہیں۔

٭ ’حملہ آور اور دولتِ اسلامیہ کے براہ راست روابط کا ثبوت نہیں‘

٭ متین کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی: سابق اہلیہ

٭’متین بہت مذہبی نہیں تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ

اورلینڈو میں ہونے والی دعائیہ تقریب میں مسلمان نے بھی شرکت کی اور تقریب میں شریک امام امام محمد علی مرسی نے کہا کہ نفرت اور تباہی کو ختم کرنے کے لیے مسلمان سب کے ساتھ ہیں۔

اورلینڈو میں ڈاکٹر فلپس سینٹر کے باہر یادگار بنائی گئی ہے جہاں پر لوگ دعائیہ تقریب کے لیے جمع ہںی۔

وہاں موجود پلس نائٹ کلب کی سابقہ ملازم کیتھلین داؤس نے کہا ہے کہ’ پلس نے مجھے اعتماد دیا، میں سمجھنے کا موقع دیا کہ میں عام انسانی کی طرح ہوں۔‘

نیویارک میں ہزاروں افراد نے دعائیہ تقریب میں شرکت کی اور شہر کی ایپمائر سٹیٹ عمارت کی روشنیوں کو بجھا دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لندن کے علاقے سوہو میں بھی لوگ اورلینڈو میں مارے جانے والے 49 افراد کی یاد میں جمع ہوئے اور ہلاک ہونے والے ہر شخص کے نام پر ہوا میں 49 غبارے چھوڑے گئے۔

پیرس کے آئفل ٹاور کو امریکی پرچم اور قوس و قزح کے رنگوں سے روشن کیا گیا۔ اسی طرح سے سڈنی اور برلن میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس سے قبل ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی نے کہا تھا کہ حملہ آور نے فون پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ سمیت مختلف تنظیموں سے وابستگی ظاہر کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آور عمر متین نے بوسٹن میں بم حملہ کرنے والوں سے بھی یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

سیاسی ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہو جاتیں ہو گئی تو وہ ایک ٹیم بنائیں گی جو اہم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گا۔

انھوں نے خبردار کیا کہ شام اور عراق میں امریکہ اور اُس کی اتحادی افواج کی بمباری سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابی ملی ہے اور مستقبل میں ان حملوں میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ دہشت گردوں کے مسلح حملوں پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ کی سڑکوں پر جنگی ہتھیاروں سے پاک کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

صدارتی دوڑ میں شامل رپبلکن پارٹی کے ممکنہ اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے امیگریشن نظام کو ’ناکارہ‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے اورلینڈو فائرنگ کی ذمہ داری امیگریشن سسٹم پر عائد کی اور کہا کہ اسی نظام کے تحت مسلح شخص کا خاندان افغانستان سے امریکہ آیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اقتدار میں آ گئے تو وہ اس نظام کو ٹھیک کریں گے۔ انھوں نے مسلمانوں کی امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کرنے کے مطالبے کو دہرایا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں سمیت ہر امریکی کامیاب ہو لیکن ’انھیں ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔‘

انھوں نے اورلینڈو کی مسلمان کیمونٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنھوں نے اُن کے بقول نائٹ کلب پر فائرنگ کرنے والے مسلح شخص کو جانتے ہوئے بھی پولیس کو مطلع نہیں کیا۔

اسی بارے میں