’پاکستان اور افغانستان سے رابطے میں ہیں، تشدد نہیں چاہتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption امریکی حکام نے حال ہی میں پاکستان اور افغان قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں خطے کے مختلف امور پر بات کی گئی

امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں ممالک سے رابطے میں ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ صورت حال مزید خراب ہو۔

یہ بات امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے بدھ کو میڈیا بریفنگ کے دوران کہی۔

٭ کشیدگی برقرار مزید نفری طلب

٭ ڈیورنڈ لائن سے بارڈر مینیجمنٹ تک

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث دونوں جانب تجارت اور لوگوں کی آمدورفت معطل ہے۔

پاکستان کی جانب سے مکمل سفری دستاویزات کے بغیر سرحد پار کرنے کی اجازت نہ دیے جانے اور اپنی حدود میں طورخم کی سرحد پر دروازے کی تعمیر کی کوشش کے باعث دونوں ممالک کی افواج میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں دو ہلاکتیں ہوئیں۔

اس سوال پر کہ آیا پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندے خصوصی رچرڈ اولسن نے پاکستان کے حالیہ دورے کے موقع پر حکام سے طورخم کے معاملے پر بات کی تھی، جان کربی کا کہنا تھا کہ وہ ان ملاقاتوں کی تفصیلات سے تو آگاہ نہیں تاہم امریکی حکام نے افغانستان اور پاکستانی قیادت سے خطے سے متعلق مختلف امور پر بات کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اس صورت حال کا قریب سے مشاہدہ کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس مسئلے کو پر امن انداز میں حل کرنے پر زور دیتا ہے۔

’ہم یقیناً جھڑپیں نہیں چاہتے، ہم تشدد نہیں دیکھنا چاہتے، ہم صورت حال کو مزید خراب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ رچرڈ اولسن نے ان جذبات کو پہنچایا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption افغان صوبے ننگرہار کی باڈر پولیس پوزیشنز سنھبالے ہوئے

بریفنگ کے دوران کراچی میں مبینہ طور پر فوج اور رینجرز کی تحویل میں سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے چند دیگر اراکین کی ماورائے عدالت قتل کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا لیِ ترمیم (انسانی حقوق کا قانون) امریکہ کو ایسی فوج جو ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہو کو امداد فراہم کرنے سے روکتی نہیں ہے؟

امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کو دورانِ حراست ہونے والی ان ہلاکتوں کی رپورٹس پر تشویش ہے تاہم انھوں نے انسانی حقوق کے قانون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستانی فوج کے کسی بھی یونٹ کو امداد فراہم نہیں کر رہا جو اس قسم کے اقدامات میں ملوث ہو۔

اسی بارے میں