نیوزی لینڈ: ایواکاڈو کے باغات میں چوریاں

Image caption ملک کے شمالی جزیرے سے ایواکاڈو سے بھری گاڑیاں غائب ہو رہی ہیں

نیوزی لینڈ میں اس برس ایواکاڈو نامی پھل کی کم پیداوار ایک غیر معمولی جرم کا باعث بنی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موقع پرست چوروں نے زیادہ اور فوری رقم کے حصول کے لیے ناشپاتی نما پھل ایواکاڈو کے باغات پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

ملک کے شمالی جزیرے سے پھلوں سے بھری گاڑیاں غائب ہو رہی ہیں۔

رواں سال اب تک ایسے 40 واقعات رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔

ایواکاڈو کی بین الاقوامی مانگ میں اضافے اور سپلائی میں کمی کے نتیجے میں بعض بڑی دکانوں میں اس کی قیمت چار امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

بیشتر چوریاں رات کے وقت کی گئیں اور امکان ہے کہ زیادہ تر چوریوں کے بارے میں رپورٹ نہیں کروائی گئی۔

ماہرین کے مطابق چوری کیے گئے ایواکاڈو کھانے کے لیے موزوں نہیں ہوں گے کیونکہ وہ ابھی پوری طرح سے پکے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ زہریلے بھی ہو سکتے ہیں۔

خوش شکل و خوش ذائقہ ایواکاڈو کی پیداوار گرم و مرطوب علاقوں میں ہوتی ہے۔

نیوزی لینڈ میں ایواکاڈو سب سے زیادہ فروخت ہونے والا تیسرا پھل ہے۔ یہاں 5000 ہیکٹر سے زیادہ کے رقبے پر اس کے باغات ہیں۔

بنیادی طور پر ایوا کاڈو کا تعلق میکسیکو اور جنوبی امریکہ سے ہے۔

دوسرے پھلوں کے مقابلے میں ایواکاڈو میں چکنائی بہت زیادہ تعداد میں پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں