پناہ گزینوں کے مذہبی عقیدے قانون سے بالاتر نہیں: جرمنی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جرمنی کے وزیر انصاف ہیکو ماس کا کہنا ہے کہ حکومت ایک سے زیادہ شادیاں اور نابالغ بچوں کی شادیوں کو تسلیم نہیں کرے گی۔

انھوں نے یہ بات جرمنی کے جریدے بلڈ سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا: ’جو بھی جرمنی آتا ہے اس کو کوئی حق نہیں کہ اپنی ثقافتی اقدار یا مذہبی عقیدے کو ہمارے قانون سے بالاتر رکھے۔‘

یاد رہے کہ جرمنی میں ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی ممانعت ہے۔

جرمنی میں بڑی تعداد میں پناہ گزین آ رہے ہیں جن میں سے اکثر مسلمان ہیں۔ ان پناہ گزینوں کی آمد کے باعث جرمنی میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے اور نابالغوں کی شادیوں کے حوالے سے تحفظات ہیں۔

جرمنی میں قانون کے مطابق ملک میں نئے آئے ہوئے افراد سمیت کوئی بھی ایک وقت میں دو افراد سے شادیاں نہیں کر سکتا۔

تاہم بلڈ اخبار کے مطابق اس قسم کے تعلقات خاموشی سے سہے جا رہے ہیں۔ لیکن وزیر انصاف چاہتے ہیں کہ حکام اس عمل کو نظر انداز نہ کریں۔

’ہر کسی کو قانون کی پاسداری کرنی ہو گی چاہے وہ یہیں یدا ہوا ہو یا ابھی ابھی اس ملک میں آیا ہو۔ اور اس کا اطلاق نابالغوں کی شادیوں پر بھی ہوتا ہے۔ ہم کسی صورت بھی زبردستی کی شادی کی اجازت نہیں دے سکتے اگر اس سے کم عمر کی کوئی لڑکی متاثر ہو رہی ہے۔‘

اخبار کا کہنا ہے کہ بویریا میں حال ہی میں آنے والے پناہ گزینوں میں 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی کے 550 کیس اور 16 سال سے کم عمر کی شادیوں کے 161 کیس رجسٹر کیے گئے ہیں۔

اخبار کے مطابق زیادہ تر کیسوں میں نابالغ لڑکیوں کی شادی جرمنی آنے سے قبل ہی کر دی گئی تھی۔

جرمنی میں اس حوالے سے کوئی قانون نہیں کہ ان نابالغ لڑکیوں کی شادیوں کے حوالے سے کیا کیا جائے جن کی شادی جرمنی سے باہر ہوئی ہیں۔

تاہم جرمنی کی عدالتیں اس قسم کے کیسوں کا فیصلہ ہر کیس کی نوعیت کو دیکھ کر کرتی ہیں۔

جرمنی کے شہر بیمبرگ میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ شام میں 15 سالہ لڑکی کی 21 سالہ مرد سے شادی جرمنی میں قانونی ہے۔

واضح رہے کہ جرمنی میں شادی کی کم از کم عمر 18 برس ہے۔

اسی بارے میں