مصر کے لاپتہ طیارے کا ’وائس ریکارڈر‘ مل گیا ہے

مصر کی فضائی کمپنی ایجپٹ ایئر کے گذشتہ ماہ حادثے کا شکار ہونے والے مسافر طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر بحیرۂ روم سے مل گیا ہے۔

اس حادثے کی تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ’بلیک باکس‘ کو اس حادثے میں نقصان پہنچا اور اس کو مختلف حصوں میں سمندر سے نکلا گیا ہے۔

سمندر میں حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی تلاش کرنے والے بحری جہاز نے طیارے کے ملبے کی تصاویر بھیجی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

سمندر سے نکالے گئے وائس ریکارڈ کو اب مصر کے شہر سکندریہ لے جایا جائے گا جہاں اس کا تجزیہ کیا جائے گا۔

اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس طیارے کے حادثے کی کیا وجہ بنی۔

قبل ازیں مصر کی تحقیقاتی ایجنسی نے کہا تھا کہ گذشتہ ماہ لاپتہ ہونے والے ایجپٹ ایئر کے مسافر طیارے کا ملبہ بحیرۂ روم سے مل گیا ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جہاز کے ملبے کے اہم حصوں‘ کا پتہ لگایا گیا ہے۔

٭ ’مصری طیارے نے گرنے سے پہلے تیزی سے دو بار رخ تبدیل کیا‘

بیان میں کہا گیا ہے گہرے سمندر میں تلاش میں مصروف بحری جہاز نے مسافر طیارہ کے ملبے کی ایک تصویر بھی بھجوائی ہے۔

ایجپٹ ایئر کی پرواز ایم ایس 804 پیرس سے قاہرہ جاتے ہوئے یونان کے جزیرے کیرپاتھوس کے قریب لاپتہ ہوگئی تھی۔

اس مسافر طیارے میں عملے کے اراکین سمیت 66 افراد سوار تھے۔

ایئر بس 320 نے قاہرہ کو ایئر پورٹ پر 20 منٹ میں اترنا تھا لیکن جہاز مصر اور یونان کے ریڈار پر سے اچانک غائب ہو گیا۔ پائلٹ کی جانب سے کوئی مدد بھی نہیں مانگی گئی۔

رواں ماہ کے آغاز میں جہاز کی تلاش میں مصروف ٹیم کا کہنا تھا کہ ’بلیک بکس پہلا سگنل ملا ہے اور فلائٹ ریکاڈر‘ کا پتہ لگا لیا گیا ہے۔

ماہرین کو خدشہ تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والے مسافر جہاز کے ریکاڈر کے سگنلز 24 جون تک ختم ہو سکتے ہیں۔

ایجپٹ ایئر فلائٹ MS804

مسافروں کی قومیت

66

طیارے میں سوار افراد میں 56 مسافر اورعملے اور سکیورٹی کے دس اہلکار

  • 30 مصری

  • 15 فرانسیسی

  • 2 عراقی

  • 1 برطانیہ، کینیڈا، بیلجیئم، کویت، سعودی عرب، سوڈان، چاڈ اور پرتگال

مسافر جہاز کے حادثے میں دہشت گردی کا عنصر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن کسی بھی شدت پسند تنظیم نے تاحال اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسانی غلطی یا تکنیکی خرابی بھی حادثے کی وجہ ہو سکتی ہے۔

فلائٹ ڈیٹا سے پتہ چلا ہے کہ ریڈار پر سے لاپتہ ہونے سے چند منٹ قبل جہاز کی بجلی بند ہو گئی تھی۔

یونان کے تفتش کاروں کے مطابق جہاز پہلے 90 ڈگری پر بائیں جانب اور پھر دائیں جانب 360 ڈگری پر گھوما۔

جہاز کی بلندی 11 ہزار میٹر سے کم ہو کر 4600 میٹر ہوئی اور پھر جہاز تین ہزار میٹر کی بلندی پر آنے کے بعد لاپتہ ہو گیا۔

اسی بارے میں