ہٹلر کی کتاب بیسٹ سیلر کیسے بن گئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کی شکست کے بعد ایڈولف ہٹلر کی متنازع کتاب مائن کمف کی اشاعت پر 70 برسوں کے لیے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

سات عشروں تک پابندی کے بعد یہودی دشمن خیالات پر مبنی یہ کتاب ایک بار پھر بیسٹ سیلر بن گئی ہے۔

نازی جرمنی کو شکست کے بعد اتحادی افواج نے اس کتاب کی اشاعت پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس کے جملہ حقوق بواریا کی ریاست کے سپرد کر دیے تھے۔

ستر برس کی پابندی کےاختتام پر ریاست بواریا نے اس کتاب کو تنقیدی تشریح کےساتھ چھاپنے کےلیےایک نیم سرکاری ادارے کو پانچ لاکھ یورو ادا کیے ہیں۔

مائن کمف تنقیدی تشریح کے ساتھ شائع ہونے کے بعد کئی ماہ تک بیسٹ سیلر رہی ہے۔

جوں جوں مائن کمف پر پابندی کا اختتام قریب آ رہا تھا جرمن ریاست کو مشکل فیصلہ کرنا تھا کہ وہ ایسی کسی تحریر کی دوبارہ اشاعت کی اجازت نہ دے جس نے جرمنی کے سیاہ ترین دور کو فروغ دینے میں اہم کردار کیا ہو۔

جرمنی کے پاس ایک راستہ یہ تھا کہ وہ سول سوسائٹی پر اعتبار کرتے ہوئے اسے مائن کمف سے نمٹنے کی اجازت دے۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور اسرائیل بھی اسی خیال کے حامی تھے۔ دوسرا راستہ اس پر مکمل پابندی تھی۔

جرمنی نے نہ تو مائن کمف کو سول سوسائٹی کے حوالے کیا اور نہ ہی اس پر پابندی لگانا مناسب سمجھا بلکہ اسے تنقیدی تشریح کےساتھ شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔

مائن کمف کیا ہے؟

ایڈولف ہٹلر نے طاقت میں آنے سے آٹھ سال قبل سن 1925 میں مائن کمف (میری جدوجہد) کو تحریر کیا تھا۔

ایک دہائی بعد جب ہٹلر اقتدار میں آئے تو یہ کتاب نازیوں کی اہم ترین کتاب بن گئی اور اِس کی ایک کروڑ 20 لاکھ کاپیاں شائع کی گئی۔

سنہ 1945 میں نازی جرمنی کی شکست کے بعد اتحادی افواج نے اِس کتاب کے حقوق بواریا کی ریاست کے سپرد کر دیے اور اِس کتاب پر 70 سالوں تک پابندی عائد کر دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مین کامف میں نازی سیاسی فلسفے کی تشریح کی گئی ہے جس میں پڑوسی علاقوں کو اپنے قبضے میں لے کر جرمنی کو عظیم ترین بنانے کے منصوبے کو بیان کیاگیا۔

تنقیدی ایڈیشن کی اشاعت کا فیصلہ

ریاست بواریا نے نیم سرکاری ادارے ’کنٹیمپوریری انسٹیٹوٹ‘ (آئی ایف زیڈ) کو پانچ لاکھ یورو ادا کیے کہ وہ مائن کمف کو تنقیدی تشریح کے ساتھ شائع کرے۔

ریاست باوریا نے واضح کہ اگر کسی شخص یا ادارے نے مین کامف کو بغیر تنقیدی تشریح کے چھاپنے کی کوشش کی تو وہ اسے عدالت میں لے جائے گی۔

اس کے علاوہ بواریا ریاست نے ہوشیاری سے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی کہ اس نے آئی ایف زیڈ کی مالی امداد کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

جنوری 2016 میں جب مائن کمف پر پابندی کے ستر برس مکمل ہو رہے تھے تو جرمنی کے حکومتی اہلکار اور آئی ایف زیڈ پریشان ہو رہے تھے۔

آئی ایف زیڈ نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اگر مائن کمف بیسٹ سیلر بن گئی تو اس کے خطرناک نتائج ہوں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہو پائے گا۔

آئی ایف زیڈ کے ڈائریکٹر آندرے ورشنگ نے کہا تھا کہ مائن کمف کو بغیر تنقیدی تشریح کے چھاپنے کی اجازت دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ فعل ہو گا۔

تنقیدی تشریح کے ساتھ چھاپی گئی مائن کمف کا وزن بارہ پاؤنڈ ہے اور اس کے ساتھ 3700 فٹ نوٹس ہیں۔ یہ کتاب ماہرین کے لیے پڑھنا آسان نہیں ہے۔

اپریل کے وسط مائن کمف سپیگل میگزین کی بااثر کتابوں کی فہرست میں کئی ہفتوں تک بیسٹ سیلر رہی ہے اور اب بھی 14ویں پوزیشن پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

بھیانک نتائج کے وسوسے بے بنیاد

اس کتاب کے بیسٹ سیلر بننے کی صورت بھیانک نتائج کے سارے خوف غلط ثابت ہو رہے ہیں۔

اس کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ جو لوگ اس کتاب کو خرید رہے ہیں تو اس کی وجہ تجسس کے علاوہ کچھ اور ہے۔

امید کی جا سکتی ہے کہ کچھ برسوں میں یہ کتاب جرمنی میں بھی اتنی ہی مقبول ہوگی جتنی امریکہ یا برطانیہ میں ہوگی۔

اس موقع پر یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ اگر سارے دنیا میں کسی کو برا کہنے کے لیے ایڈولف ہٹلر کا نام ہو سکتا ہے تو جرمن باشندے اپنے ماضی کے حوالے سے کوئی کتاب پڑھتے ہیں تو اس میں برائی ہی کیا ہے۔

ایک خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مائن کمف کی اشاعت یہودی مخالف جذبات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

شمالی جرمنی کے قدامت پسند اشاعتی ادارے ’شلم‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بغیر تنقیدی نوٹس کے مائن کمف کی اشاعت کرے گا۔ اسی طرح اٹلی کے ایک اخبار ’الگیونالے‘ نازی منشور کی مفت کاپیاں تقسیم کیں۔

بواریا ریاست نے پراسیکیوٹر سے کہا ہے کہ شلم کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرے۔

شلم کی جانب سے مائن کمف کی اشاعت سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہے اور یہ زیادہ دیر کارآمد نہیں رہے گی۔

نیونازی یا ان کے حامیوں کو پہلے ہی باآسانی انٹرنیٹ کے ذریعے مائن کمف تک رسائی حاصل ہے۔

اسی بارے میں