اوباما کا ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے قانون سازی پر زور

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا کہ اورلینڈو میں قتل عام کے واقعے کے بعد بھی اگر ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کے لیےقانون سازی نہ ہو سکی تو مستقبل میں ایسے مزید واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔

اورلینڈو کے نائٹ کلب کے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندان سے تعزیت کے لیے جمعرات کو صدر اوباما اورلینڈو پہنچے ہیں۔

٭نائٹ کلب حملے میں ہلاکتیں 50، اورلینڈو میں ایمرجنسی نافذ

صدر اوباما نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کریں۔ امریکی کانگریس میں رپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی سیاست کے گٹھ جوڑ نے دہشت گرد اور دماغی طور پر بیمار افراد کے لیے جدید ہتھیاروں کی خریداری کو قانونی طور پر آسان بنا دیا ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ وہ سینٹ سے درخواست کریں گے کہ دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ تعلق رکھنے والے افراد کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کے حق میں ووٹ دیں۔

صدر اوباما اورلینڈو کے ایم وے سینٹر میں متاثرہ افراد کے لواحقین سے ملاقات کی جبکہ سینٹر کے باہر سینکڑوں افراد موجود ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر کے اس دورے کا مقصد متاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو صبح نائٹ کلب میں ہونے والے حملے میں 49 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اورلینڈو کے نائٹ کلب میں حملہ کرنے والے شخص کی شناخت عمر متین کے نام سے ہوئی ہے اور اشتعال انگیز بیانات دینے کی وجہ سے اُن کا نام دس ماہ تک ایف بی آئی کی دہشت گردوں کی واچ لیسٹ میں شامل رہا ہے۔

صدر اوباما کے ساتھ نائب صدر جیو بائیڈن بھی اورلینڈو پہنچے ہیں۔

یاد رہے کہ رپبلکن پارٹی کے ممکنہ نامزد اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ افراد جن کا نام دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہے انھیں ہتھیاروں کی فروخت سے روکا جائے۔

ٹرمپ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ میں نیشنل رائفل ایسوسی ایشن سے ملاقات کروں گا اور وہ مجھے یقین دلائیں گے کہ دہشت گردوں کی نگرانی کی فہرست میں شامل افراد کو ہتھیار فروخت نہ کیے جائیں۔‘

امریکہ میں ہتھیاروں کے کنٹرول کی قانون سازی پر ایوانِ نمائندگان میں رائے مختلف ہے اور امریکہ کا آئین شہریوں کو ہتھیار رکھنے کا حق فراہم کرتا ہے۔

اسی بارے میں