رمضان میں امتحانات، طالب علموں کا امتحان

Image caption زینب عموماً پورا ماہ رمضان روزے رکھتی ہیں لیکن اس سال ان کا کہنا ہے کہ وہ روزے نہیں رکھ رہیں

برطانیہ میں اساتذہ کی ایک یونین نے مسلمان طالب علموں پر زور دیا ہے کہ وہ رمضان کے دوران اپنے امتحانات کو فوقیت دیں جبکہ کچھ طالب علموں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ روزوں سے ان کے امتحانات میں کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔

اساتذہ کی یونین نے رمضان اور امتحانات کی تاریخوں کے تصادم کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ میں 14 سے 16 سال کی عمر کے طالب علم جی سی ایس ای کے امتحانات دیتے ہیں۔

اسی لیے مذہبی اور تعلیمی کمیونٹی میں بہت سارے افراد کا کہنا ہے کہ طالب جنھیں اس دوران مشکلات درپیش ہیں وہ روزانہ روزہ نہ رکھیں۔

کچھ طالب علموں کے لیے اپنے عقیدے اور تعلیم کے درمیان فیصلہ کرنا ایک مشکل ہے لیکن جنھوں نے روزہ نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے وہ امتحانات کے بعد روزے رکھ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ روزے اسلامی عقیدے کا اہم رکن ہیں اور ماہ رمضان میں روزے کے دوران سحر سے لے کر غروب آفتاب تک کچھ بھی کھانے پینے کی ممانعت ہوتی ہے۔

زینب اور عائشہ انگلینڈ کے شمال مغرب میں واقع لنکاشائر کاؤنٹی کے علاقے نیلسن میں رہتی ہیں اور وہ اپنے امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں۔

وہ عموماً پورا ماہ رمضان روزے رکھتی ہیں لیکن اس سال زینب کا کہنا ہے کہ وہ روزے نہیں رکھ رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption طالب امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں لیکن یہ خدشات بھی ہیں روزے کی حالت میں وہ ایسا نہیں کر سکیں گے

وہ کہتی ہیں: ’میرے لیے یہ پریشان کن ہے کہ میں روزے نہیں رکھ سکتی۔ لیکن پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ جس دن میرا امتحان ہو اس دن میں روزہ نہ رکھوں اور جس دن امتحان نہ ہو اس دن روزہ رکھ لوں۔‘

وہ میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

طالب امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں لیکن یہ خدشات بھی ہیں روزے کی حالت میں وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔

اسی لیے اساتذہ کی ایک یونین ایسوسی ایشن آف سکول اینڈ کالج لیڈر نے اپنے ممران کو اس حوالے سے آگاہ کیا ہے۔

اس حوالے سے اعداد و شمار جمع کرنے والی اینا کول کا کہنا ہے کہ تعلیم مسلمانوں کے لیے مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’انھوں نے ہمیں بتایا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس سال روزہ رکھنے سے امتحانات میں آپ کی کارکرگی متاثر ہوسکتی ہے، یہ آپ کی یاداشت اور توجہ متاثر کر سکتی پھر نوجوان مسلمانوں کا بتانا چاہیے کہ اسلام نہیں چاہتا کہ وہ اپنا مستقل داؤ پر لگائیں۔‘

دوسری جانب نیلسن میں زینب کے لیے یہ ایک آسان فیصلہ نہیں ہے۔ لیکن ان کے خاندان کی جانب سے انھیں بھرپور حمایت حاصل ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں روزہ رکھنا چاہتی تھی کیونکہ میرے خیال سے اس سے مجھ پر رحمت ہوگی۔‘

تاہم انھوں نے اپنے والد سے بات چیت کے بعد ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روزے اسلامی عقیدے کا اہم رکن ہیں

کمال ہانی ایک ایسے سکول کے ہیڈ ٹیچر ہے جہاں بیشتر طالب علم مسلمان ہیں۔

ایسوسی ایشن آف سکول اینڈ کالج لیڈرز نے ان سے بھی مشاورت کی۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں جو معلومات فراہم کی گئیں وہ طالب علموں اور ان کے والدین کے مابین بات چیت کے بنیادی نکتے کو بیان کرتی ہے۔

شاید تمام مکاتب فکر میں اس حوالے سے اتفاق رائے نہ ہو تاہم کچھ ایسے ہیں جو کچھ رعایت دے سکتے ہیں۔ لیکن یہ نوجوان لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی بات ہے کہ اس حوالے سے مخلتف آرا ہیں اور آپ اپنے سکول اور امام سے پوچھ سکتے ہیں کہ اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے۔

جہاں تک زینب اور عائشہ جیسی طالبات کی بات ہے وہ چھوڑے جانے والے روزے امتحانات کے بعد رکھ لیں گی۔

اسی بارے میں