’اقوام متحدہ نے شام میں اپنی غیر جانبداری کھو دی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام کے تنازع سے متعلق جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ پر اپنے ہی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ شام میں امداد کی فراہمی کے عمل پر حکومت کو کنٹرول کی اجازت دیتا ہے۔

شام میں 50 سے زائد انسانی حقوق اور سول سوسائٹی گروہوں نے اس رپورٹ کی حمایت کی ہے جس کے مطابق اقوامِ متحدہ نے باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں مدد فراہم کرنے کے مطالبات کو منظور نہیں کیا۔

٭ شام: سیدہ زینب کےمزار کے قریب دھماکے، ہلاکتوں میں اضافہ

٭ حلب میں کشیدگی، ’حکومتی جنگی طیاروں کی بمباری‘

رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس وجہ سے شام میں ہزاروں عام افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ’اس رپورٹ میں قومی اور بین الاقوامی امدادی کارکنوں کے کام کو بدنام کیا گیا ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ادارے نے شام کے تنازع کے فریقین کو جن میں شامی حکومت بھی شامل ہے ادارے کی جانب سے شام میں جاری امدادی کاموں میں کبھی بھی رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی۔

شام میں اقوامِ متحدہ کی کارروائیوں سے متعلق یہ رپورٹ بدھ کو ایک گروپ ’سیریا کیمپین‘ کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ یہ گروپ خود کو شام کے پر امن اور جمہوری مستقبل کے لیے ایک بین الاقوامی ایڈوکیسی گروپ کہلواتا ہے۔

یہ رپورٹ شام میں کام کرنے والے 50 سے زائد امدادی کارکنوں کے انٹرویوز پر مشتمل ہے۔

رپورٹ کے مطابق شامی حکومت کے خلاف بغاوت کے آغاز میں حکومتی محاصرے میں موجود جنوبی شہر داریا میں امدادی ایجنسیوں کی جانب سے امداد فراہم کرنے کی کوشش کی صورت میں حکومت نے اقوامِ متحدہ کو شام کے اندر کام کرنے کی اجازت کو ختم کرنے اور اس کے غیر شامی عملے کے ویزوں کو ختم کرنے کی دھمکی دی۔

رپورٹ کے مطابق شامی حکومت نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے کسے اور کب امداد فراہم کرنی کی کوشش کے دوران اس دھمکی کا تسلسل کے ساتھ استعمال کیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسیوں نے شامی حکومت کے ساتھ تعاون کی اپنی شرائط پیش کرنے کی بجائے ’حکومتی رکاوٹوں کو قبول کیا‘ جس کی وجہ سے وہاں ’فرمابرداری کا کلچر‘ پیدا ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اس عمل سے شامی حکومت کو باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں امدادی ایجنسیوں پر ایک موثر کنٹرول حاصل ہو گیا اور حکومت نے محاصرے کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق رواں برس اپریل میں صرف دمشق سے بھجوائی گئی صرف 12 فیصد خوراک پر مشتمل امداد حکومتی کنٹرول سے باہر کے علاقوں تک پہنچ سکی۔

واضح رہے کہ شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں