94 سالہ شخص کو نازی دور میں جرم کرنے پر سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رینولڈ ہیننگ 1942 سے لے کر 1944 تک آشوٹز کیمپ میں گارڈ رہے۔

جرمنی میں ہٹلر کے دور میں ہزاروں افراد کے قتل میں سہولت کار کا الزام ثابت ہونے پر آشوٹز کیمپ کے ایک سابق گارڈ کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

94 سالہ رینولڈ ہیننگ پر ایک لاکھ ستر ہزار لوگوں کے قتلِ عام میں سہولت کار کے طور پر کام کرنے کا الزام تھا۔

اور جرم ثابت ہونےپر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

رینولڈ ہیننگ 1942 سے لے کر 1944 تک آشوٹز کیمپ میں گارڈ رہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا علم تھا کہ کیمپ کے اندر کیا ہو رہا ہے تاہم انھوں نے اسے روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

جنوبی پولینڈ میں واقع آشوٹز کیمپ میں نازیوں نے 10 لاکھ سے زائد لوگوں کا کا قتلِ عام کیا تھا جن میں سے زیادہ تر یہودی تھے۔

یہ مقدمہ چار ماہ تک مغربی جرمنی کے شہر ڈیٹمولڈ میں چلتا رہا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہیننگ وہیل چیئر میں خاموش بیٹھے رہے اور مقدمے کے دوران ان کے چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے جبکہ انھوں نے اس دوران لوگوں سے نظریں ملانے سے گریز کیا۔

کہا جارہا ہے کہ یہ نازی حکومت کے دور میں کیے گئے جرائم کے آخری مقدموں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

گذشتہ سال ایک جرمن عدالت نے آسکر گروئینگ نام شخص کو تین لاکھ سے زیادہ لوگوں کے قتلِ عام میں سہولت کار کا جرم ثابت ہونے پر چار سال کی سزا سنائی تھی۔

اسی بارے میں