’عراقی افواج نے فلوجہ پر کنٹرول حاصل کر لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS

عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ ملکی افواج نے فلوجہ شہر کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضہ سے آزاد کروا لیا ہے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی فورس اور پولیس نے مونسپل بلڈنگ پر قومی پرچم لہرا دیا ہے۔

٭ ’دولتِ اسلامیہ فلوجہ سے نکلنے والوں کو نشانہ بنا رہی ہے‘

٭ فلوجہ میں ’زیرحراست افراد پر شیعہ ملیشیا کا تشدد‘

اس سے پہلے یہ اطلاعات تھیں کہ جنوب اور مشرقی علاقوں پر حکومت نے کنٹرول حاصل کیا۔

بغداد سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع فلوجہ وہ شہر ہے جس پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سب سے زیادہ عرصے سے قابض ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے فلوجہ پر سنہ 2014 میں قبضہ کیا تھا اور اس کے کچھ ماہ بعد ہی وہ عراق اور شام میں دیگر علاقوں پر قابض ہوئی تھی۔

امریکہ کی سیکرٹری دفاع ایش کارٹر کا کہنا ہے کہ ’شہر کے اہم علاقے دولتِ اسلامیہ کے قبضے‘ میں اور ’مزید لڑائی کرنے کی ضرورت ہے۔‘

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی کا کہنا ہے کہ شہر میں بہت کم تعداد میں شدت پسند موجود ہیں۔

سرکاری ٹی وی سے خطاب میں حیدر العبادی نے کہا کہ ’ ہم نے فلوجہ آزاد کروانے کا وعدہ کیا تھا اور ہم نے دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ ہماری سکیورمی فورسز کا فلوجہ پر کنٹرول ہے اور مختصر علاقہ کچھ ہی گھنٹوں میں خالی کروا لیا جائے گا۔‘

حیدر العبادی نے ٹویٹ کی کہ فلوجہ کو ’شہریوں کو واپس کر دیا گیا ہے‘ اور ’داعیش کو ناکامی ہوئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگلا معرکہ موصل میں ہو گا۔ موصل پر سنہ 2014 سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے۔ عراق افواج نے دسمبر 2015 میں رمادی پر کنرول حاصل کیا تھا۔

اس سے قبل لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایلیٹ کاؤنٹر ٹیررازم فورس اور ریپڈ رسپانس فورسز نے سٹی کونسل بلڈنگ کو ’آزاد‘ کروا لیا۔

وفاقی پولیس کے سربراہ رعد شاکر جودت نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سرکاری عمارت کی آزادی جو کہ شہر کی مرکزی نشانی ہے، حکومت کی رٹ کی بحالی کی علامت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومتی افواج کو پیش قدمی کے دوران محدود پیمانے پر ہی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ عراقی افواج نے کئی ماہ کے محاصرے کے بعد گذشتہ ماہ فلوجہ کو دولت اسلامیہ کے کنٹرول سے واپس لینے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

فلوجہ شہر میں خوراک اور پانی کی شدید قلت ہو گئی تھی اور اطلاعات کے مطابق دولتِ اسلامیہ شہریوں کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

شدت پسندوں نے فلوجہ سے نکلنے کی کوشش کرنے والے کئی افراد کو قتل بھی کیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ فلوجہ میں آپریشن کی وجہ سے اب تک 68 ہزار افراد نے شہر سے نقل مکانی کی ہے۔

اسی بارے میں