ایم ایس ایف نے یورپی یونین کی پالیسی مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والےاس معاہدے کا مقصد دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ آنے والے افراد کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کو روکنا ہے

عالمی امدادی تنظیم میدساں ساں فرنتیئر (ایم ایس ایف) کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین کی تارکینِ وطن سے متعلق پالیسی پر احتجاجاً ان سے مزید پیسے نہیں لے گی۔

ایم ایس ایف نے یورپی یونین اور ترکی کے درمیان تارکینِ وطن سے متعلق رواں برس مارچ میں ہونے والے معاہدے کے بعد خود کو الگ کر لیا تھا۔

٭ ترکی یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کو روک سکتا ہے اردوغان

٭ یورپ اپنی راہ لے ہم اپنی: اردوغان کا یورپی یونین کو جواب

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق ترکی نے سمندر کے ذریعے سمگلروں کی کشتیوں میں یونان آنے والے کسی بھی تارکینِ وطن کو واپس لینے پر اتفاق کیا تھا۔

خیال رہے کہ ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والےاس معاہدے کا مقصد دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ آنے والے افراد کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کو روکنا ہے۔

ایم ایس ایف نے جمعے کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا کہ وہ یورپی یونین اور اس کے ارکان کی تارکینِ وطن سے متعلق پالیسی پر احتجاجاً ان سے مزید رقم نہیں لے گی۔

ادارے نے سوشل میڈیا پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ ’ ہمارے اس فیصلے سے ہمارا کوئی بھی مریض متاثر نہیں ہو گا اور ہم اپنے منصوبوں کو جاری رکھنے کے لیے ایمرجنسی فنڈز استعمال کریں گے۔‘

امدادی ادارے کا مزید کہنا ہے کہ یورپ کی لوگوں کو بچانے اور انھیں مدد فراہم کرنے کی پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

ایم ایس ایف کے سیکریٹری جنرل جےروم نے نیوز کانفرنس میں بتایا کے یورپی یونین اور ترکی کے درمیان تارکینِ وطن سے متعلق ہونے والا معاہدہ لوگوں کی ’ضرورت کے وقت مدد کرنے‘ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان تارکینِ وطن کے حوالے سے ہونے والے معاہدے میں پورپی یونین کی پالیسیوں کے نقائص کو دور کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا بلکہ صرف پورپی ذمہ داریوں کا انتظام کیا گیا۔

جے روم کے مطابق ’یہ یورپ کے پناہ گزینوں کے لیے واقعی شرم کی بات ہے۔‘

اسی بارے میں