بیلیجیئم: گرفتار افراد میں سے تین پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حالیہ دنوں میں مزید حملوں کی وراننگ جاری کی گئی ہیں

بیلجیئم میں حکام نے رات بھر آپریشن میں گرفتار کیے جانے والے 12 میں تین افراد پر دہشت گردی اور قتل کی کوشش کی فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

نو دیگر افراد کو تفتیش کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بیلجیئم کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں انسداد دہشت گردی کی ایک جامع کارروئی کے دوران 12 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات حراست میں لیے جانے والوں پر دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کا شک ہے اور یہ اس حوالے سے زیر تفتیش 40 افراد میں شامل ہیں۔

یہ گرفتاریاں برسلز اور اس کے اردگر 16 علاقوں میں چھاپوں کے دوران کی گئی ہیں۔

وزیراعظم چارلز مائیکل کا کہنا ہے کہ عوامی تقریبات کی سکیورٹی کو مزید بڑھایا جائے گا۔

بیلجیئم سکیورٹی کونسل کی ملاقات کے بعد وزیر اعظم نے ٹویٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ تمام تقریبات منصوبے کے مطابق ہوگی۔ انھوں نے عوام سے پرسکون رہنے کی درخواست کی ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی بی ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے مشتبہ افراد کو جمعے کے روز مرکزی بر سلز میں فین زون کے قریب ڈرائیونگ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا جہاں سنیچر کو بیلجیئم اور جمہوریہ آئرلینڈ کے درمیان فرانس میں کھیلے جانے والا یورو 2016 کا میچ بڑی سکرین پر دکھایا جانا ہے۔

یاد رہے کہ برسلز میں ایئر پورٹ اور میٹرو سٹیشن پر 22 مارچ کو ہونے والے بم حملوں میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بیلجیئم کے وفاقی استغاثہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان تازہ چھاپوں کے دوران اسلح یا دھماکہ خیز آلات برآمد نہیں ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ گرفتاریاں برسلز اور اس کے اردگر 16 علاقوں میں چھاپوں کے دوران کی گئی ہیں

جن علاقوں میں چھاپے مارے گئے ان میں برسلز کا ضلع مولن بیک بھی شامل ہے۔

وفاقی استغاثہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد ’فوری مداخلت لازمی ہو گئی تھی اس لیے آپریشن کا آغاز کیا گیا۔‘

تاہم بیلجیئم حکومت کی جانب سے اس خطرے کی نوعیت اور شدت کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں مزید حملوں کی وراننگ جاری کی گئی ہیں۔

بیلجیئم میڈیا کے مطابق جمعے کے روز چارلز مائیکل سمیت چار وفاقی وزرا اور ان کے خاندان والوں کو پولیس کی سخت حفاظت میں رکھا گیا تھا۔

بیلجیئم پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں حال ہی میں اطلاع ملی ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کا ایک گروپ شام سے یورپ کی جانب روانہ ہوا ہے اور انھوں نے بیلجیئم اور فرانس میں تازہ حملوں کی منصوبہ بندی تیار کی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں