فیس بک پر قتل کی ویڈیو لائیو چلی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ تین ماہ کے اندر اس قسم کا دوسرا واقعہ ہے

فیس بک پر براہ راست سٹریمنگ کے دوران شکاگو کے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 28 سالہ اینٹونیو پرکنس کو سر اور گردن میں شہر کے مغربی علاقے میں گولی ماری گئی۔

یہ ویڈیو ابھی بھی فیس بک پر موجود ہے اور اسے ابھی تک سات لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

شکاگو میں تین ماہ میں یہ دوسری بار ہے جب کسی شوٹنگ کو فیس بک پر براہ راست نشر کیاگیا ہے۔

مارچ کے مہینے میں ایک نامعلوم شخص کو لائو سٹریمنگ کے دوران 16 بار گولی ماری گئی۔

ابھی تک دونوں معاملوں میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے۔

فیس بک لائیو سٹریمنگ میں کسی کو بھی کوئی چیز بروقت نشر کرنے کی سہولت فراہم ہے۔ اسے سنہ 2010 میں لانچ کیا گيا تھا لیکن اب یہ سوشل نٹورکنگ حکمت عملی میں مرکزی اہمیت کا حامل ہو گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption ابھی تک اس معاملے میں کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئي ہے

مسٹر پرکنس کے ویڈیو میں انھیں اور لوگوں کے ایک گروپ کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس میں گولی چلنے کي آواز آتی ہے۔ اس کے بعد فون ہلتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور خون آلود گھاس نظر آتی ہے اور پھر سکرین تاریک ہو جاتی ہے۔

پاس بیٹھے لوگوں کی چیخنے اور رونے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

یہ ویڈیو فیس بک پر موجود ہے تاہم تادیبی پیغام کے ساتھ۔

فیس بک کی ایک ترجمان نے کہا کہ ویڈیو میں کمپنی کے ضابطے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اس وقت کسی ویڈیو کو ہٹائے گی جب وہ کسی تشدد کا جشن منائے یا اس کی قصیدہ خوانی کرے۔

رواں ماہ کے اوائل میں فرانسیسی پولیس کمانڈر کے قاتل اور کمانڈر کے ساتھی نے قتل کے فورا بعد فیس بک لائیو پر نشر کیا اور فالو کرنے والوں کو جیل کے اہلکاروں، پولیس اہلکاروں، صحافیوں اور رکن پارلیمان کو ہلاک کرنے کے لیے اکسایا۔

امریکی شہروں میں شکاگو کا مسلح جرائم میں نام کافی اوپر آتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال تقریبا 500 قتل ہوئے تھے اور رواں سال مسلح تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں