’فلوجہ شہر میں انسانی بحران کا خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آین آر سی کے مطابق لوگوں کی تعداد میں اضافے کے سبب امدادی سامان خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ عراقی فوج کے فلوجہ شہر پر قبضے کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں کی نقل مکانی سے انسانی بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ فلوجہ کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کے لیے حکومتی فورسز کی چار ہفتوں تک جاری رہنے والی کارروائی میں 80،000 لوگوں نے نقل مکانی کی۔

* فلوجہ میں ’زیرحراست افراد پر شیعہ ملیشیا کا تشدد‘

* فلوجہ کی جنگ: ’آپ اتنی جلدی میں کیوں ہیں؟‘

ادارے کے مطابق خدشہ ہے کہ مزید 25،000 شہری بھی نقل مکانی کریں گے۔

امدادی کارکنوں کو شہر سے باہر بنے کیمپوں میں مقیم لوگوں تک کھانا، پانی اور ادویات پہنچانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ کیمپ لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

نارویجیئن رفيوجی کونسل (این آر سی) کے ناصر مفلاحی کا کہنا ہے، ’فلوجہ سے بھاری تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی کی وجہ سے ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں ہم پوری طرح ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کئی لوگ کھلے آسمان تلے سونے جبکہ دن میں47 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت میں رہنے پر مجبور ہیں

ان کے بقول ’ہم عراق کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آنے والی انسانی بحران کو سنبھالنے کی ذمہ داری لیں۔‘

عراقی فوج کی جانب سے فلوجہ شہر پر قبضہ واپس لینے کے باوجود اب بھی شہر کے مختلف حصوں میں مزاحمت جاری ہے۔

لڑائی کے باعث گھر بار چھوڑنے والے کئی لوگ کھلے آسمان تلے سونے جبکہ دن میں47 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت میں رہنے پر مجبور ہیں۔

آین آر سی کے مطابق لوگوں کی تعداد میں اضافے کے سبب امدادی سامان خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے۔ ایک کیمپ میں 1800 خواتین کے لیے صرف ایک بیت الخلا ہے۔

وزیرِ اعظم حیدر العبادی کی حکومت لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے 34 لاکھ افراد کی ضروریات پوری کرنے میں پہلے ہی ناکام ہو چکی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ بعض شہریوں کو دولتِ اسلامیہ انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر ہی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ بعض علاقوں میں فورسز کی پیش قدمی سست ہے۔ فوج کو امریکی فضائی طیاروں کی مدد حاصل ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے اس شمالی شہر ہر سنہ 2014 میں قبضہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آین آر سی کے مطابق ایک کیمپ میں 1800 خواتین کے لیے صرف ایک بیت الخلا ہے

اسی بارے میں