امریکہ کو جرائم روکنے کے لیے پروفائلنگ کرنی چاہیے: ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹرمپ نے ماضی میں مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی کی بھی حمایت کی تھی

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لیے ممکنہ امیداوار ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ ملک میں جرائم سے نمٹنے کے لیے لوگوں کی پروفائلنگ یا ذاتی معلومات اکھٹی کرنی چائیں۔

ٹرمپ نے یہ بات اورلینڈو کلب میں فائرنگ کے واقعے کے تناظر میں پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہی کہ کیا وہ امریکہ میں مسلمانوں کی پرفائلنگ کہ حق میں ہیں؟

* ’خارجہ پالیسی کا بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کو روکنا ہے‘

پروفائلنگ میں نسل، رنگ اور مذہب کی تفیصل ہوگی جو اس بات کا تعین کرے گی کہ ایک شخص کوئی جرم کر سکتا ہے یا نہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے مسلمان الگ تھلگ ہو جائیں گے۔

سی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دیگر ممالک میں یہ اقدام انتہائی کامیابی سے اپنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے پروفائلنگ کے تصور سے ہی نفرت ہے لیکن ہمیں عام فہم کا استعمال بھی کرنا ہوگا۔‘

’میرا خیال ہے کہ پروفائلنگ ایک ایسی چیز ہے جس سے ہم اپنے ملک کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہیں۔ یہ بدترین کام نہیں ہے۔‘

اورلینڈو میں عمر متین نامی شخص کی فائرنگ کمی 49 افراد کی ہلاکت کے بعد سے ٹرمپ کے بیانات جاری ہیں۔ حملہ آور نے اپنا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ظاہر کیا لیکن انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ ’خود ساختہ شدت پسند تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انٹرویو میں انھوں نے مسلمان برادری سے اپیل کو دہرایا کہ وہ کسی بھی قسم کی شدت پسند سرگرمی کی رپورٹ کریں

ان حملوں کے بعد ٹرمپ نے تمام ممالک کے ایسے افراد پر پابندی کا کا مطالبہ کیا تھا جن کا امریکہ کے خلاف دہشت گردی سے تعلق رہا ہو۔

انھوں نے ماضی میں مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی کی بھی حمایت کی تھی۔

انٹرویو میں انھوں نے مسلمان برادری سے اپیل کو دہرایا کہ وہ کسی بھی قسم کی شدت پسند سرگرمی کی رپورٹ کریں اور اعادہ کیا کہ مساجد کی مزید جانچ پڑتال کی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پروفائلنگ کا نظام نیویارک میں ایک متنازع نگرانی کے پروگرام کی طرز پر ہو سکتا ہے جو قانونی کارروائی کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔

ان کی اس تجویز پر کئی سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ ان کے کئی ساتھی ری پبلیکنبز نے تنقید کی ہے۔

اسی بارے میں