متنازع غازی پارک منصوبے کے دوبارہ آغاز کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غازی پارک استنبول کے بیچ و بیچ بہت کم سبز جگہوں میں سے ایک ہے

ترکی کے صدر نے یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ وہ استنبول کے اس مرکزی پارک کی از سر نو تعمیر کا منصوبہ رکھتے ہیں جس کے سبب سنہ 2013 میں حکومت مخالف مظاہرے ہوئےتھے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا کہ غازی پارک ایک مسئلہ تھا اور ’ہمیں اس کے بارے میں ہمت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔‘

منصوبے میں قدیم بیرکوں کی ازسر نو تعمیر ہے اور مرکزی علاقے میں جو بہت کم سبز جگہ بچي ہے وہاں کچھ دوسری عمارتوں کی تعمیر شامل ہے۔

خیال رہے کہ مئی سنہ 2013 میں اس کے خلاف مظاہرے میں کئی افراد مارے گئے تھے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے تھے۔

شہری ترقی کے خلاف جو مظاہرہ شروع ہوا تھا وہ بعد میں اردوغان کی حکومت کے خلاف وسیع غم غصے کا مظہر بن گیا۔ اس وقت اردوغان ملک کے وزیر اعظم تھے۔

فساد کش پولیس کی جانب سے طاقت کے حد سے زیادہ استعمال سے کشیدگی میں اضافہ ہو گيا تھا۔

Image caption سنہ 2013 میں تعمیر و توسیع کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے استنبول میں ایک تقریر کے دوران کہا: ’اگر ہمیں اپنی تاريخ بچانی ہے تو ہمارے لیے اس تاریخی عمارت کی تعمیر ضروری ہے اور ہم اس کی تعمیر کریں گے۔‘

وہ دولت عثمانیہ کے عہد کے بیرکوں کی بات کر رہے تھے جو کہ غازی پارک میں موجود ہیں۔

بعض ترکوں کے لیے بیرکوں کی مجوزہ تعمیر علامتی اہمیت کی حامل ہے۔ بعض روایتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ یہیں سے اسلام پسند فوجیوں نے سنہ 1909 میں ایک ناکام بغاوت کی ابتدا کی تھی۔

یہ بیرک سنہ 1940 میں منہدم کر دیے گئے اور اس کی تعمیر بعض لوگوں کے نزدیک اسلام پسندی کا احیا ہے۔

سنہ 2013 کے انتشار کے بعد ترکی کی انتظامیہ نے اس کی تعمیر و ترقی کا کام روک دیا تھا لیکن گذشتہ سال اس نے استنبول کی میونسپل کی اپیل پر اپنے فیصلے کو بدل دیا۔

اسی بارے میں