یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر مباحثہ

برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا اس سے الگ ہونے کے فیصلے پر جمعرات کو ہونے والے ریفرینڈم سے پہلے لندن کے ویمبلی ایرینا میں مباحثہ ہوا۔

دونوں اطراف کے نمائندوں نے چھ ہزار لوگوں کے سامنے بحث میں حصہ لیا۔

بی بی سی کی دو گھنٹوں پر محیط اس ’گریٹ ڈیبیٹ‘ کے ذریعے جانبین کو موقع ملا کہ وہ جمعرات کو ہونے والے ریفرینڈم سے پہلے اپنے خیالات پرائم ٹائم ٹیلی ویژن پر عوام کے سامنے پیش کریں۔ اس میں سوالات کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا: معیشت، امیگریشن، اور برطانیہ کی خودمختاری۔

’لیو‘ یعنی ’یورپی یونین چھوڑ دو‘ کی جانب سے اس مباحثے کے شرکا میں لندن کے سابق میئر بورس جانسن شامل ہوئے، جب کہ ’ریمین‘ یا ’یورپی یونین کا حصہ بنے رہو‘ کی طرف سے دوسروں کے علاوہ جانسن کے جانشین صادق خان نے حصہ لیا۔

مباحثے کے میزبان ڈیوڈ ڈمبل بائی، مشال حسین اور ایمیلی میٹلس ہیں اور اسے بی بی سی ون پر براہِ راست دکھایا گیا۔

یورپی یونین سے الگ ہونے کی حامی مہم کی نمائندگی بورس جانسن، لیبر کی جانب سے رکنِ پارلیمان گیسلا سٹوارٹ اور توانائی کی وزیر اینڈریا لیڈسم نے کی۔

یورپی یونین کا حصہ بنے رہنے کی حامی مہم کے نمائندہ صادق خان، سکاٹ لینڈ کی کنزرویٹیو رہنما روتھ ڈیوڈسن، اور ٹریڈ یونین کانگریس کے جنرل سیکریٹری فرانسس او گریڈی تھے۔

Image caption مباحثے کے میزبان مشال حسین، ڈیوڈ ڈمبل بائی اور ایمیلی میلٹس

مباحثے کی ابتدا میں دونوں اطراف نے معیشت اور تجارت کے معاملے پر ایک دوسرے سے بحث کی، اور آپس میں تند و تلخ جملوں کا تبادلہ کیا۔

بحث کے دوران سکاٹ لینڈ کی رہنما روتھ ڈیوڈسن کی بورس جانسن کے ساتھ کئی دفعہ تکرار ہوئی اور انھوں نے بورس جانسن کی مہم پر ’جھوٹا‘ ہونے کا الزام عائد کیا۔

جانسن نے جواباً کہا کہ ریمین کی مہم ملک کو کم قیمت پر بیچنا چاہتی ہے۔

جانسن جب اپنے اختتامی کلمات کہنے کے لیے آئے تو ان نے حامیوں نے کھڑے ہو کر ان کی پذیرائی کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لے تو ’جمعرات ہمارا یومِ آزادی ہو سکتا ہے۔‘

ڈیوڈسن نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ انھیں ’سو فیصد یقین ہے‘ کہ برطانیہ الگ ہونے کے حق میں ووٹ نہیں دے گا۔

لندن کے حالیہ اور سابقہ میئروں کے درمیان خوب تکرار ہوئی اور صادق خان نے اپنے پیش رو بورس جانسن پر الزام لگایا کہ انھوں نے یورپی یونین کے تجارت کو پہنچنے والے فوائد کے بارے میں اپنے خیالات تبدیل کر لیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لندن کے میئر صادق خان ’ریمین‘ مہم کی جانب سے اس مباحثے میں حصہ لے رہے ہیں

کارکنوں کے حقوق کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لیو کی لیڈسم نے کہا کہ برطانیہ نے کارکنوں کے حقوق کے سلسلے میں دنیا کو راستہ دکھایا ہے، یورپی یونین نے نہیں۔ ’ہمیں غیر منتخب شدہ، بیوروکریٹ یورپی رہنماؤں کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ہمیں بتائیں کہ کارکنوں کے حقوق کیا ہوتے ہیں۔‘

جب مباحثہ امیگریشن کے سوال پر پہنچا تو صادق خان نے کہا کہ الگ ہونے کے حامی نفرت پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انھوں نے لیو کا ایک تشہیری پرچہ، جس پر لکھا تھا کہ ترکی یورپی یونین کا حصہ بننے والا ہے، لہراتے ہوئے اپنے مخالفین پر ’جھوٹ بولنے‘ اور ’لوگوں کو ڈرانے کا الزام لگایا۔

انھوں نے کہا: ’ترکی فوری طور پر یورپی یونین کا حصہ بننے نہیں جا رہا۔‘

بی بی سی کی سیاسی نامہ نگار وکی ینگ کہتی ہیں کہ صادق خان اور اوگریڈی کی شمولیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ریمین مہم یہ سمجھتی ہے کہ جمعرات کو لیبر پارٹی کا ووٹ اہمیت کا حامل ہو گا۔

اسی بارے میں