ایرانی جنرل کی بحرین کو تنبیہ

Image caption آیت اللہ قاسم بحرین کی اکثریتی شیعہ آبادی کی جانب سے شہری اور سیاسی حقوق کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی حمایت کرتے رہے ہیں

ایرانی پاسدرانِ انقلاب کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے کہا ہے کہ بحرین میں حکام کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم شیخ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کرنے کی وجہ سے وہاں مسلح مزاحمت ہو سکتی ہے۔

بحرین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے شیخ عیسیٰ کی شہریت غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کے لیے کام کرنے اور ملک میں فرقہ واریت اور تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں منسوخ کی ہے۔

شیعہ عالم کی شہریت منسوخ

پاسدرانِ انقلاب کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے کہا ہے کہ بحرین کے اس اقدام نے خطے میں آگ بھڑکا دی ہے۔

بحرین میں ہزاروں افراد نے شیخ عیسیٰ کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا ہے اور مظاہرین بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔

بحرین کی وزارتِ داخلہ نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے۔

پاسدرانِ انقلاب کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کا یہ بیان نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین کے بادشاہ اس بات کو یقینی طور پر جانتے ہیں کہ شیخ القاسم کے خلاف ان کی جارحیت ایک سرخ لکیر ہے جسے عبور کرنا پورے خطے کو آگ لگا دے گا اور اس کی وجہ سے لوگوں کے پاس سوائے مسلح مزاحمت کے اور کوئی چوائس نہیں ہوگی۔‘

آیت اللہ قاسم بحرین کی اکثریتی شیعہ آبادی کی جانب سے شہری اور سیاسی حقوق کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

بحرین کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آیت اللہ عیسیٰ قاسم ’ ملک دشمن تنظیموں اور جماعتوں سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آیت اللہ قاسم ملک کی اکثریتی شعیہ آبادی کی جانب سے شہری اور سیاسی حقوق کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی حمایت کرتے آئے ہیں

ادھر امریکی محکمۂ خارجہ نے اس اقدام پر اپنے ردعمل میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شیخ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے کسی بھی ٹھوس ثبوت سے آگاہی نہیں رکھتا۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے تحت کسی بھی شخص کو اس کی شہریت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن بحرین کے قانون کے تحت حکومت ہر اس شخص کی شہریت منسوخ کر سکتی ہے جو ’سلطنت کے مفاد کو نقصان پہنچائے یا وفاداری کی ذمہ داری کو صیح طریقے سے نہ نبھائے۔‘

شیخ عیسیٰ کی شہریت کی منسوخی کا فیصلہ بحرین کی حکومت کی جانب سے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی حزبِ اختلاف کی تنظیم وفاق نیشنل اسلامک سوسائٹی کی معطلی، اس کے دفاتر کی بندش اور اثاثے منجمد کرنے کے اعلان کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

الوفاق شیعہ مسلمانوں کی ترجمانی کرنے والا سب سے بڑا سیاسی گروپ ہے جس کے خیال میں بحرین میں شیعہ افراد کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔

تنظیم کے سربراہ شیخ علی سلمان اس وقت جیل میں ہیں اور گذشتہ ماہ اُن کی سز کو دوگنا کر کے نو سال کر دیا گیا تھا۔

وکی لیکس کی جانب سے شائع ہونے والے امریکی کے سفارتی مراسلے میں کہا گیا تھا کہ شیخ عیسیٰ قاسم الوفاق کے ساتھ ساتھ بحرین کی شیعہ آبادی کے روحانی پیشوا ہیں۔

خیال رہے کہ بحرین میں سنی مسلک تعلق رکھنے والے شاہی خاندان کی حکومت ہے جبکہ ملک کی آبادی کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں