شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل کے دو تجربات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جنوبی کوریا کے مطابق شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خلاف ورزی کرتے ہوئے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کیے ہیں۔

جنوبی کوریا کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں طاقتور موسودان میزائل تھے تاہم ان میں سے ایک کا تجربہ ناکام ہو گیا جبکہ دوسرا چار سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سمندر میں گر گیا۔

٭ شمالی کوریا کا ینگ باین جوہری ری ایکٹر’دوبارہ فعال‘

جنوبی کوریا کے مطابق وہ امریکہ کے ساتھ مل کر دوسرے میزائل تجربے کا تفصیلی تجزیہ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اقوام متحدہ نے اس پر کسی قسم کے بیلسٹک میزائل کے تجربے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

شمالی کوریا نے گذشتہ دو ماہ کے دوران اس سے پہلے چار میزائل تجربات کیے تھے اور اطلاعات کے مطابق یہ تمام ناکام رہے۔

جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے نے کہا ہے کہ بیلسٹک میزائل تجربات کی تصدیق ہوئی ہے اور انھیں واضح طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

شمالی کوریا کے ہمسایہ ممالک نے گذشتہ دنوں ہی میزائل تجربات کی تیاریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

جاپان نے کہا تھا کہ اگر میزائل اس کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تو انھیں مار گرایا جائے گا۔

موسودان میزائل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تین ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور اس رینج میں جنوبی کوریا کے علاوہ جاپان بھی آتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق شمالی کوریا کے پاس درجنوں کی تعداد میں موسودان میزائل ہیں تاہم ان کی تجربات کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔

رواں ماہ ہی جوہری توانائی کے نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے بظاہر یونگ باین میں واقع جوہری مرکز کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔

یونگ باین میں جوہری بجلی گھروں میں استعمال شدہ ایندھن کو ’پراسیس‘ کیا جاتا ہے اور وہ ملک کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے پلوٹونیم فراہم کرنے کا ذریعہ رہا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اور متعدد میزائل تجربات کے بعد خطے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں شمالی کوریا پر مزید نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔

یکم اپریل کو امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور چین نے فیصلہ کیا ہے کہ شمالی کوریا کو مستقبل میں میزائل ٹیسٹ کرنے سے روکیں گے۔

اس کے باوجود شمالی کوریا نے مغربی ممالک کو دھمکیاں دیتے ہوئے ہائیڈروجن بم اور پھر طویل فاصلے تک جانے والے میزائل کے تجربات کیے۔

اسی بارے میں