برطانوی ریفرینڈم: گنتی جاری، ابتدائی نتائج آنا شروع ہوگئے

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ’لیو‘ نے انگلینڈ کے شمال مشرق علاقوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ سکاٹ لینڈ میں ’ریمین‘ کو سبقت حاصل ہوئي ہے

برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ بنے رہنے یا اس سے الگ ہو جانے پر ہونے والے ریفرنڈم کے جو ابتدائی نتائج موصول ہورہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ مقابلہ بہت سخت ہوگا۔

ابتدا میں 382 میں سے جن 15 کاؤنٹیز کے نتائج سامنے آئے ہیں اس میں سے’ریمین‘ (یعنی یورپی یونین میں شامل رہنے کے کا حامی گروپ) کو 48.5 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ’لیو‘ ( یوروپی یونین سے الگ ہونے کا حامیوں) کو 51.5 فیصد حاصل ہوئے ہیں۔

’لیو‘ نے انگلینڈ کے شمال مشرق علاقوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ سکاٹ لینڈ میں ’ریمین‘ کو سبقت حاصل ہوئي ہے۔

نتائج سے متعلق صورت حال پوری طرح سے واضح ہونے میں ابھی کئی گھنٹوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس ریفرنڈم میں عام انتخابات سے بھی زیادہ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نتائج سے متعلق صورت حال پوری طرح سے واضح ہونے میں ابھی کئی گھنٹوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس ریفرنڈم میں عام انتخابات سے بھی زیادہ ووٹ ڈالے گئے ہیں

سب سے پہلے جس کاؤنٹی سے نتائج موصول ہوئے وہ نیوکاسل تھی، جہاں ’ریمین‘ نے صرف ایک ووٹ کے فرق سے برتری حاصل کی۔

تاہم نیوکاسل سے ملحقہ کاؤنٹی سنڈرلینڈ میں ’لیو‘ نے 22 فیصد کی برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔

جبرالٹر میں 96 فیصد رائے دہندگان نے ’ریمین‘ کے حق میں ووٹ ڈالا۔

پولنگ امور کے ماہر پروفیسر جان کرٹس کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے کے رجحانات سے تو ایسا لگتا ہے کہ لیو ریفرنڈم کو جیتنے کے فیورٹ ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ اس ریفرنڈم میں جس فریق کو 16,813,000 ووٹ حاصل ہوں گے وہ کامیاب ہوجائےگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانیہ کے کئی حصوں ریفرینڈم کے دن تیز بارش ہوئی

الیکٹورل کمیشن کا اندازہ ہے کہ حتمی نتائج جمعے کو صبح کے وقت سامنے آئیں گے۔ عام انتخابات کے مقابلے پر اس ریفرینڈم میں انفرادی نتائج کی اہمیت نہیں اور مجموعی ووٹ ہی کسی ایک مہم کی ہار یا جیت کا فیصلہ کریں گے۔

جب پولنگ ختم ہوئی تو ڈالر کے مقابلے پر پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم جب ابتدائی نتائج آنا شروع ہوئے تو پاؤنڈ تیزی سےگرنا شروع ہو گیا۔

یو گو کے پانچ ہزار لوگوں پر کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 52 فیصد لوگوں نے ای یو کا حصہ بنے رہنے، جبکہ 48 فیصد نے چھوڑ دینے کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یو کے آئی پی کے رہنما نائجل فراژ نے سکائی نیوز کو بتایا: ’ایسا لگتا ہے کہ ریمین مہم جیت جائے گی۔‘

جو مہم بھی جیتے، اس ریفرینڈم کے نتائج برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں سنگِ میل کی حیثیت رکھیں گے۔ اگر برطانیہ یورپی یونین کو الوداع کہنے والا پہلا ملک بن گیا تو یہ 28 رکنی تنظیم کے قیام کے بعد سے اس کے لیے سخت تر دھچکہ ہو گا۔

اس سے پہلے برطانیہ میں صرف دو ملک گیر ریفرینڈم ہوئے ہیں، اور یہ یورپین یونین میں رہنے کے حق میں اور مخالفت کرنے والی مہموں کےدرمیان چار ماہ کی تند و تیز بحث کے بعد منعقد کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

ریفرینڈم میں لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا ہے: ’کیا برطانیہ کو یورپی یونین کا حصہ بنے رہنا چاہیے یا یورپی یونین سے الگ ہو جانا چاہیے؟‘

جس نے بھی 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے اسے فاتح قرار دیا جائے گا۔

ملک کے جنوبی حصوں میں موسم خاصا خراب رہا ہے، اور بعض علاقوں میں سیلاب آ گیا۔ مغربی لندن کے علاقے اکسبرج سے ڈومینک کلفرڈ نے کہا ہے کہ بہت سے لوگ کو سیلاب کے باعث پولنگ سٹیشنوں تک پہنچنے میں مشکل پیش آئی۔